خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 35

1950ء 35 7 خطبات محمود تم اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرو کہ تمہارا مٹنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی برداشت نہ کر سکے۔ (فرمودہ 31 مارچ 1950ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ جمعہ کا خطبہ دینے کے بعد مجھے مختلف اسٹیٹس کے دیکھنے کے لئے باہر جانا پڑا تو گردوغبار کی وجہ سے میرے گلے کی تکلیف بہت بڑھ گئی جس کی وجہ سے میں اب اتنا بھی نہیں بول سکتا جتنا گزشتہ جمعہ میں بولا تھا۔ میں آج اختصار کے ساتھ جماعت کو ایک موٹی سی بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ لمبی باتیں جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بیان کیا تھا بعض دفعہ انسان کو اُس کے مقصد سے دور کر دیتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے فقرے یا چھوٹی چھوٹی تقریریں اُس کو اُس کے مقصد کے زیادہ قریب کر دیتی ہیں اور انسان ان کو یا درکھ سکتا ہے۔ مسد بدر کی جنگ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف 313 آدمی تھے اور ان میں سے بھی پورے با ہتھیار اور صلح آدمی تھوڑے تھے۔ ایک حصہ صحابہؓ کا ایسا تھا جس کے پاس سیامان بھی پورا نہیں تھا۔ اس کے مقابلہ میں دشمن کی فوج ایک ہزار کی تعداد میں تھی اور وہ سب کے سب مسلح اور سوار تھے۔ اس حالت میں یہ قیاس کیا جا سکتا تھا کہ ایک ہزار آدمی 313 آدمیوں کو جبکہ وہ پوری طرح مسلح بھی نہیں ہیں، جبکہ وہ سوار بھی نہیں ہیں اور جبکہ ان کی حرکتیں اتنی تیز نہیں ہو سکتیں جتنی ان کے