خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 21

$1950 21 خطبات محمود کرتے نظر آئیں گے تو ہم کہیں گے کہ اُن کے دعاوی جھوٹے ہیں۔یہ آپ بھی دھوکا کھا رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکا دے رہے ہیں۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو۔میں یہ کہتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے گا تو وہ اپنے مقصد کو ایک ہی دن میں پالے گا۔تم اگر مشرق کے کسی گاؤں کو جانے کے لئے مشرق کی طرف منہ کر لیتے ہو تو تم اُسی وقت اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے۔اسی طرح اگر تم مغرب کے کسی گاؤں کو جانے کے لئے مغرب کی طرف منہ کر لیتے ہو تو تم اُسی وقت اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے۔لیکن تم اگر مشرق کے کسی گاؤں کو جانا چاہتے ہو یا مغرب کے کسی گاؤں کو جانا چاہتے ہو تو تمہارا منہ تو اُدھر ہونا چاہیے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات سنو گے تو خدا رسیدہ بن جاؤ گے۔اس کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔لیکن اُس طرف منہ کرنے میں تو وقت نہیں لگتا۔اگر ان ایک شخص نے لاہور جانا ہے اور دوسرے شخص نے جہلم جانا ہے تو نہ لا ہور جانے والا فور الاہور پہنچ جائے گا اور نہ جہلم جانے والا فورا جہلم پہنچ جائے گا۔لیکن ارادہ کرتے وقت لاہور جانے والے کا منہ لا ہور کی طرف ہو جائے گا اور جہلم جانے والے کا منہ جہلم کی طرف ہو جائے گا۔اور ہم سمجھ لیں گے کہ جتنے بھی قدم اُٹھیں گے اتنا لا ہور جانے والا لا ہور کے قریب ہوتا جائے گا اور جہلم جانے والا جہلم کے قریب ہوتا ہ جائے گا۔لیکن اگر اُن کے قدم ایک ہی طرف اُٹھیں گے تو یہ پاگلوں والا کام ہوگا۔پس جہاں میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم فورا اپنے مقصد کو نہیں پاسکتے وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ تم فورا اپنی جہت تبدیل کر سکتے ہو۔اور اس پر ایک منٹ نہیں بلکہ ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔اور جب جہت تبدیل کی جاتی ہے تو ہر قدم جو اٹھایا جاتا ہے وہ منزل مقصود کو قریب سے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے۔“ (الفضل 25 مارچ 1950 ء )