خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 267

$1950 267 خطبات محمود ہر جگہ کے رہنے والوں کو چاہیے کہ اُن کے نمائندے مرکز میں آیا کریں۔3 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت ابراہیم کے ہاتھوں رکھوائی اور دوسری طرف کہا۔لوگ چاروں طرف م سے یہاں آیا کریں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حج کا حکم دیا۔اسی طرح عمرہ کا حکم دیا یعنی سال میں ایک دفعہ لوگ حج کے لئے مکہ آیا کریں۔اور پھر سال کے سارے حصوں میں مکہ آیا کریں۔مدینہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر جگہ کے رہنے والے اپنے نمائندے مدینے بھیجا کریں تا وہ یہاں رہ کر دینی تعلیم حاصل کریں۔مسلمانوں نے اس گر کو نہیں سمجھا۔مسلمانوں کا ہر سیاسی مرکز مذہبی مرکز سے زیادہ آباد تھا۔اس لئے لوگوں کا کثیر طبقہ سیاسی مرکز کی طرف جاتا تھا اور مذہبی مرکز کمزور رہتا تھا۔در حقیقت اسلام کو اتنا نقصان اور کسی چیز نے نہیں پہنچایا جتنا نقصان قاہرہ ، دمشق اور بغداد نے پہنچایا۔یا جتنا نقصان اصفہان اور ری 4 نے پہنچایا یا جتنا نقصان بخارا اور ”مرو 5 نے پہنچایا۔ان شہروں نے لوگوں کی توجہ مذہبی مراکز سے ہٹا کر اپنی طرف کر لی۔اگر سب سے بڑے شہر مکہ اور مدینہ ہوتے تو یہ خرابی پیدا نہ ہوتی۔یو نیورسٹیاں بغداد میں بنیں حالانکہ اُن کا صحیح مقام مدینہ تھا۔جامعہ ازہر قاہرہ میں بناحالانکہ اس کا صحیح مقام مکہ تھا۔پس جو قوم اپنی روحانیت اور علمی طاقت کو پھیلانا چاہتی ہے ضروری ہے کہ اس کا مرکز زیادہ سے زیادہ وسیع ہو۔ہماری نظروں کے سامنے یہ بات ہر وقت رہنی چاہیے کہ جب تک قادیان کلی طور پر آزاد نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ربوہ سب شہروں سے زیادہ آباد ہو۔پھر جب قادیان آزاد ہو جائے تو وہ سب شہروں سے زیادہ آباد ہو۔اور اگر ایسا ہو تو لازمی بات ہے کہ بیرونجات سے لوگ یہاں آئیں گے اور دینی تعلیم حاصل کریں گے۔دنیا کی نگاہیں صرف مذہبی لحاظ سے ہی اس شہر پر نہیں پڑیں گی بلکہ ان کی نگاہیں سیاسی لحاظ سے بھی اسی شہر پر ہوں گی۔کیونکہ یہ آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا شہر ہوگا۔پس جوں جوں ربوہ آباد ہوگا جلسہ سالانہ کی ضرورتیں کم ہوتی جائیں گی۔قادیان میں ہمیں نہ بیر کیں بنانی پڑتی تھیں اور نہ عارضی رہائش کی جگہیں تیار کرنی پڑتی تھیں۔لوگ بڑی خوشی کے ساتھ اپنے اپنے مکان پیش کر دیتے تھے اور جوں جوں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی جاتی تھی شہر کی آبادی بھی بڑھتی جاتی تھی۔مگر یہاں یہ حالت نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس طرح حج ایک نشان ہے اسی طرح جلسہ بھی ایک نشان ہے۔در حقیقت مکہ کی برتری عمرہ کے ذریعہ حج سے کم ظاہر