خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 259

1950ء 259 خطبات محمود میں سے بعض بڑی بڑی تجارتوں کے مالک ہیں۔ دوسرے لوگ لٹ گئے لیکن یہ لوگ بچ گئے ۔ خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا کہ جن بنکوں میں جماعت کا روپیہ تھا انہوں نے دیانتداری سے کام لیا اور ہمارا روپیہ واپس کر دیا۔ ہمارے عملہ نے تو سستی کی لیکن جب ہم لاہور پہنچے تو میں نے کہا روپیہ فوراً نکلوالو۔ مجھے کہا گیا کہ روپیہ نکلوانے کی کیا ضرورت ہے بنکوں میں محفوظ پڑا ہے پڑا رہے۔ لیکن میں نے کہا حالات ایسے ہیں کہ اگر اب روپیہ نہ نکلوایا گیا تو بعد میں بہت سی دقتیں پیدا ہو جائیں گی۔ چنانچہ ستمبر 1947ء کے مہینہ میں ہی دفتر نے روپیہ پاکستان تبدیل کروالیا اور سلسلہ ایک بڑے صدمہ سے بچ گیا۔ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ نہ کوئی روپیہ واپس لا سکتا ہے اور نہ ہندوستان بھیج سکتا ہے۔ چونکہ سوائے اتنے روپے کے جس کی قادیان والوں کو ضرورت تھی باقی سارا روپیہ واپس آ گیا تھا اس لئے لاکھوں لاکھ روپیه انجمن بلا تکلف واپس دیتی چلی گئی اور اب بیسیوں نہیں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس روپیہ سے تجارتیں جاری کیں۔ اگر ان کا روپیہ یہاں نہ ہوتا تو سکھوں نے لوٹ لینا تھا لیکن اب ان میں سے بعض لاکھ پتی ہیں۔ غرض یہ فائدہ بخش چیز بھی ہے اور خدمت دین بھی ہے۔ اس میں برکت یہی تھی کہ امانت رکھنے والوں نے یہ خیال کیا کہ روپیہ بے فائدہ گھر پڑا ہے اسے دفتر میں رکھ دیں تا وقتی طور پر اس سے سلسلہ فائدہ اٹھا لے۔ اس نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے انہیں بڑی ٹھوکر سے بچالیا۔ یہاں پہنچ کر میں سمجھتا ہوں کہ پندرہ سولہ لاکھ کے قریب روپیہ لوگ واپس لے چکے ہیں ۔ پھر نئی امانتیں بھی آئی ہیں لیکن پچھلی امانت میں سے غالباً پندرہ سولہ لاکھ روپیہ واپس لیا جا چکا ہے۔ تمہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میری رقم چھوٹی ہے یا بڑی۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں میرے پچاس ساٹھ روپے کے ساتھ کیا بنے گا حالانکہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ روپے ہزاروں اور لاکھوں بن جاتے ہیں۔ دیکھ لو! زیادہ چندہ ؟ دینے والے وہی ہیں جو پانچ پانچ سات سات روپے دیتے ہیں لیکن انہی چندوں کو ملا کر تحریک جدید اور صدرانجمن احمد یہ کا چندہ سولہ سترہ لاکھ بن جاتا ہے۔ وا پس تیسری بات میں یہ کہتا ہوں کہ دوست اپنا روپیہ امانت تحریک جدید میں رکھیں اور تحریک ا جدید جا ہے نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا صیغہ امانت بد نام ہو رہا ہے۔ روپیہ کا سوال نہیں وہ تو مل جاتا ہے لیکن جو بدنامی ہو جاتی ہے وہ بڑی چیز ہے۔ تم کہہ دیتے ہو کہ روپیہ ہمارے پاس محفوظ ہی ہے گھبراہٹ