خطبات محمود (جلد 31) — Page 252
$1950 252 خطبات محمود دوسروں سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدیوں میں بے اولاد نہیں ہوتے یا احمد یوں میں تھوڑی اولا دوالے نہیں ہوتے۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر ان کا دوسروں سے مقابلہ کیا جائے تو احمد یوں میں ہر سو آدمیوں کی نسل جتنی ترقی کرتی ہے اتنی غیر احمد یوں، ہندوؤں اور سکھوں میں سے ہر سو آدمیوں کی نسل ترقی نہیں کرتی۔غرض تین وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جماعت بڑھ رہی ہے۔اول تبلیغ کے ذریعہ سے کہ لوگ احمدیت کے دلائل سن کر اسے قبول کر رہے ہیں۔دوسرے تناسل کے ذریعہ سے جیسے تمام قوموں کی نسلیں بڑھ رہی ہیں۔تیسرے غیر معمولی نشان کے ذریعہ کہ خدا تعالیٰ احمدیوں کی نسل میں دوسری قوموں کی نسبت زیادہ ترقی دے رہا ہے۔یہ تین ذرائع ہیں جو ہماری آبادی کو بڑھا رہے ہیں۔گو یہ نظری ہم نہیں آتے۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک چشمہ پھوٹتا ہے۔جہاں وہ کھولتا ہے وہاں اُس کی کی طاقت نظر نہیں آتی۔لیکن پچاس ساٹھ میل کے بعد اُس میں اتنا زور، اتنا شور اور اتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ اُسے دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے۔اسی طرح الہبی جماعتوں کی ابتدائی حالت ہوتی ہے۔ابتدا میں ان کی ترقی نظر نہیں آتی لیکن اندر ہی اندر یہ تینوں ذرائع اُن کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔پس ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی بڑھنے والی طاقت کو استعمال کریں۔جس طرح دریا نکلتے ہیں اور وہ تی بہتے چلے جاتے ہیں اور نالائق اور نا اہل قومیں اُن سے فائدہ نہیں اٹھاتیں بلکہ فائدہ کی بجائے وہ ان سے صرف اتنا نقصان اٹھاتی ہیں کہ ان میں طغیانی آئی اور اردگرد کے دیہات غرق ہو گئے اور ارد گرد کی ہے زمین بے کار اور بنجر ہوگئی۔یا زیادہ سے زیادہ یہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں کہ دریاؤں سے مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔لیکن جو تو میں عقلمند اور ذہین ہوتی ہیں وہ اُن سے نہریں نکالتی ہیں اور اُن سے بنجر زمینوں کو آباد کرتی ہیں اور ان سے اربوں ارب روپیہ کماتی ہیں۔ہماری جماعت کو بھی آبادی کے لحاظ سے دریا کی حیثیت حاصل ہے۔وہ ایک چشمہ کی صورت میں پھوٹی ہے اور آگے جا کر اس سے اور نالیاں مل رہی ہیں۔لیکن اس کے اندر سے بھی جیسے دریا کی تہہ (Bed) کے نیچے سے چشمے پھوٹ رہے ہوتے ہیں چشمے پھوٹ کر اس کو بڑھا رہے ہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ قرآن کریم میں طوفانِ نوح کے متعلق فرماتا ہے کہ اوپر سے بھی پانی برسا اور نیچے سے بھی پانی کھوٹا اور یہ دونوں پانی آپس میں ملے