خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 225

$1950 225 خطبات محمود ہمارے کاموں میں زیادہ خرابیاں قبل از وقت اندازہ نہ لگانے سے پیدا ہوتی ہیں۔دوسرا سبب اس کا یہ ہوتا ہے کہ لوگ اندازہ لگا لینے کے بعد صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔جو لوگ اندازے لگاتے ہیں در حقیقت قیاس کا نام اندازہ رکھ لیتے ہیں۔حالانکہ صحیح انداز و حسابی اندازہ ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ علم میں ترقی ہوتی ہے۔ہر شخص روزانہ خط لکھتا ہے یا کچھ تحریر کرتا ہے۔جب اس سے پوچھا جائے کہ وہ دن بھر میں کتنے صفحے لکھ سکتا ہے؟ تو شاید بڑی جلدی سے کہہ دے گا کہ میں دوتین وصفح لکھ سکتا ہوں۔لیکن جب اُسے لکھنے پر بٹھا دو تو شاید یہ پتا لگے کہ وہ اندازہ جو اُس نے لگایا تھا اُس کا دسواں حصہ بھی صحیح نہیں ہے۔اسی طرح مضامین لکھنے میں انسان قیاس کر لیتا ہے کہ وہ بہت سُرعت کے ساتھ لکھ سکتا ہے۔مگر عمل میں جا کر وہ بات بالکل اور ہی نکلتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ لوگ بڑی جلدی سے کہہ دیں گے کہ وہ سو سو صفحے لکھ سکتے ہیں یا شاید کوئی کہہ دے کہ وہ دن بھر میں صرف دس بارہ صفحے لکھی سکتا ہے۔اور یہ دونوں اندازے غلط ہوں گے۔میں نے عملاً جولکھ کر دیکھا تو بہت زور دے کر ایک دن میں سو کالم لکھا تھا۔میری کتاب تحفتہ الملوک غالباً دو دن میں لکھی گئی تھی اور سو سو کالم روزانہ لکھا گیا تھا۔میری کتاب " احمدیت سات دن میں لکھی گئی تھی اور غالباً اوسط کالم سولہ کے قریب روزانہ بنتے تھے۔اور میرے کام کا وقت چودہ پندرہ گھنٹے روزانہ ہوتا تھا۔صبح سے کام شروع کرتا تھا اور رات کے بارہ بارہ بجے تک کام کرتا تھا۔بیچ میں کچھ وقت کھانے پینے ، پیشاب پاخانہ کرنے اور نمازوں پر بھی خرچ کی ہوتا تھا۔فرض کرو اگر پانچ گھنٹے سونے کا وقت ہو اور تین چار گھنٹے نمازوں ، کھانے پینے اور پیشاب پاخانہ وغیرہ کاموں پر لگ جائیں تو نو گھنٹے کے قریب ایسے کاموں پر لگ گئے اور پندرہ گھنٹے کام کے لئے نکل آئے۔پھر ایک گھنٹہ کا میں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ میں چھ سات کالم لکھ سکا ہوں۔غرض میں نے تجربہ کر کے یہی کچھ دیکھا ہے لیکن اس سے پہلے اگر کوئی مجھ سے سوال کرتا تو شاید میں بھی کہہ دیتا کہ میں روزانہ سو ڈیڑھ سو صفحہ لکھ سکتا ہوں۔لیکن میری عمر کا تجربہ یہی ہے کہ جو کچھ میں روزانہ لکھ سکا وہ سو کالم تھا یا شاید چار پانچ صفحے اوپر ہوں گے۔بہر حال اوسط سو کالم ہی پڑتی ہے اور یہ بھی میں نے ایک ایک بجے رات تک لکھے تھے۔پس حسابی اندازے لگانے کے بغیر انسان کو یہ پتا نہیں لگ سکتا کہ وہ می کس قدر کام کر سکتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ اول تو اندازہ لگائیں گے ہی نہیں یونہی ہے تک بندی کر دیں گے حالانکہ حسابی اندازہ اور چیز ہے اور قیاس اور چیز ہے۔حسابی اندازے کے معنے