خطبات محمود (جلد 31) — Page 224
1950ء 224 خطبات محمود ہمارے کارکنوں نے اسی غلطی سے کام لے کر جس کا ہمارے ملک میں رواج ہے کہ ہم کسی کام کا قبل از وقت حسابی اندازہ نہیں لگاتے فرض کیا ہوا تھا کہ کام آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔ جب پہلے دن صدرانجمن احمد یہ کا اجلاس ہوا تو انہوں نے مجھے ایک تحریر بھیج دی کہ سب انتظام ٹھیک ہو گئے ہیں۔ جب میں نے لکھا کہ سب انتظام ٹھیک ہو جانے کے یہ معنے ہیں کہ بتایا جائے کہ کتنی اینٹیں فی بیرک لگیں گی؟ کتنی بیر کیں بنانے کا ارادہ ہے؟ کتنی اینٹیں روزانہ تیار ہوں گی اور کتنے آدمی انہیں تیار کر سکیں گے؟ اور پھر کیا وہ آدمی مہیا ہیں؟ پھر کتنے گدھے اور دوسرے جانوراینٹیں ڈھونے کے لئے موجود ہیں؟ اور پھر وہ روزانہ کتنی اینٹیں لائیں گے؟ جب اس طرح اندازہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک سو پچاس دن میں یا کم از کم ایک سو دن میں جا کر بیر کیں تیار ہوں گی۔ لیکن ہمارے پاس صرف تمیں دن باقی ہیں ۔ پھر جب عملی طور پر دیکھا گیا تو جو اندازہ لگایا گیا تھا وہ بھی غلط نکلا ۔ کیونکہ یہ خیال کیا گیا تھا کہ ہم دس ہزار اینٹیں روزانہ تیار کرتے ہیں اور بیس ہزار روزانہ کل سے تیار کرنی شروع کر دیں گے۔ لیکن جب خود ناظر وہاں دیکھنے گئے تو صرف چار ہزار اینٹیں روزانہ تیار ہو رہی تھیں اور بیس ہزار روزانہ اینٹیں تیار کرنے کا قریب میں امکان ہی نہیں تھا۔ تب دوڑ دھوپ کر کے پتھیروں کو تلاش کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے۔ لیکن ابھی تک صرف اتنی اطلاع ملی ہے کہ آدمی بھیجے گئے ہیں آگے کس حد تک انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا ابھی پتا نہیں لگا۔ چونکہ جمعہ آ گیا تھا اس لئے میرے پاس آخری رپورٹ نہیں پہنچی۔ بہر حال اگر آدمی آ جائیں اور وہ پورے زور کے ساتھ کام کریں تب بھی ہم بمشکل ساٹھ پیر کیں بناسکیں گے جن میں اُنیس ہزار کے قریب آدمی آئیں گے۔ بہر حال کچھ تو صورت پیدا ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح اب انجمن کے ناظروں نے کام کرنا شروع کیا ہے اگر اسی اصول کے مطابق کام کرتے رہے تو غالبا وہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے کچھ نہ کچھ سامان کر لیں گے۔ مگر جو چیز آج میں پھر پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی کسی کام کے کرنے سے پہلے اندازہ لگاتا ہے۔ قرآن کریم کو پڑھ لو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرً ا 1 - خدا تعالیٰ نے جب کسی کام کا ارادہ کیا تو پہلے اس کا اندازہ لگایا۔ اندازہ لگانے سے انسان صحیح طور پر کسی کام کو سمجھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان خیالی طور پر جو قیاس کرتا ہے وہ بعض دفعہ تو سو فیصدی غلط ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ کام شروع کرنے سے پہلے اس کا صحیح اندازہ نہیں لگاتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔