خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 169

$1950 169 خطبات محمود کے ساتھ قید کے دنوں میں اچھا سلوک کیا تھا اس لئے وہ اظہار تشکر کے طور پر اُمم طاہر کی عیادت کے لئے آگئے۔جب انہوں نے بات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اُن کی بیوی مسلمان ہے۔ایک بیٹی اُن کے خسر کی میرے ایک پھوپھی زاد بھائی کے سالے سے بیاہی ہوئی تھی۔ایک اس ہندو سے بیاہی ہوئی تھی اور ایک اسی قسم کے کسی تیسرے آدمی سے بیاہی ہوئی تھی۔تو ان لوگوں میں اس سے کوئی پر ہیز نہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تنگ ظرفی ہے اگر شادی بیا ہوں کو وسیع نہ کیا جائے۔حالانکہ غیر احمدی سے شادی نہ کرنا ایک غیر احمدی کے لئے اگر نیا مسئلہ ہے تو غیر مسلم سے شادی نہ کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں۔قرآن کریم میں یہ بات صراحت سے موجود ہے مگر وہ اسلام سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ انہیں ان باتوں کی اب کوئی پرواہی نہیں۔اچھا رشتہ عیسائی مل جائے تو کہیں گے الْحَمْدُ لِلہ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔اچھا رشتہ سکھ پل جائے تو کہیں گے الْحَمدُ لِلہ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔اچھا رشتہ ہند ول جائے تو کہیں گے اَلحَمدُ لِلهِ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔اب پارٹیشن کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں ایک قسم کا بغض ہندوؤں اور سکھوں کے متعلق پیدا ہوا ہے لیکن پندرہ بیس سال کے بعد ممکن ہے جب یہ بغض دور ہو جائے تو تعلیم یافتہ طبقہ کہے کہ اجی ! ان باتوں میں کیا رکھا ہے مذہب اپنا اپنا ر ہے اور شادی ہو جائے تو کیا حرج ہے۔دین تو صرف دل اور دماغ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے اس کا شادیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔میرے ایک عزیز تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں میری ایک بیوی کے ماموں تھے۔انہوں نے قصہ سنایا کہ ایک ریلوے کلرک تھا اس نے مجھے ایک دن کہا کہ آؤ ہم آپ کو مولویوں کا ایمان دیکھائیں۔وہ شخص ان کا دوست تھا اور یہ ڈاکٹر تھے۔وہ انہیں آگرہ کی جامع مسجد کے امام کے پاس لے گیا اور ان کی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دو روپے بطور نذرانہ پیش کئے اور پھر کہا میں جناب سے ایک مشورہ لینے آیا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ مجھے فلاں محکمہ میں سویا سو سو روپیہ تنخواہ ملتی ہے مگر میرا اس میں گزارہ نہیں ہوتا۔اب ریلوے میں ایک جگہ مل رہی ہے وہاں تنخواہ تو ساٹھ روپے ہے مگر بالائی آمد تین چار سو روپیہ کے قریب ہے۔حضور کا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ اب انہیں تو دو روپے کی نذرمل چکی تھی اس کے بعد اُن کے لئے یہ کہنا بڑا مشکل تھا کہ تمہارے لئے رزق کی یہ وسعت نا جائز ہے۔سر مار کر کہنے لگے اچھا ہے، کافی آمدن ہے کر لو۔اور یہ کہنے کی توفیق نہ ملی کہ یہ تو حرام آمد ہے۔حلال کے ساتھ حرام آمدکس طرح لائی جاسکتی ہے۔بلکہ اس نے جب کہا کہ تنخواہ تو ساٹھ روپے ہے مگر تین چارسو و پیر اوپر کی آمد