خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 150

$1950 150 خطبات محمود وہ ریل میں آرام سے بیٹھے سفر کر رہے ہوں گے مگر نماز نہیں پڑھیں گے۔اور جب پوچھا جائے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو کہیں گے سفر میں کپڑوں کے پاک ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اس لئے ہم نماز نہیں پڑھتے۔حالانکہ سفر تو الگ رہا میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اگر سر سے پیر تک کسی شخص کے کپڑے پیشاب میں ڈوبے ہوئے ہوں اور اس کے پاس اور کپڑے نہ ہوں جن کو وہ بدل سکے اور نماز کا وقت آ جائے تو وہ اُنہی پیشاب آلودہ کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔یا اگر پردہ ہے تو کپڑے اُتار کر ننگے نماز پڑھ لے اور یہ پروانہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں یا جسم پر کوئی کپڑا نہیں۔کیونکہ نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لیا جائے اور اس طرح اُس کی یاد اپنے دل میں تازہ کی جائے۔جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک دو دو گھونٹ پانی پیتا رہتا ہے تا کہ اس کا گلا ئر رہے اور اس کے جسم کو تراوت پہنچتی رہے اسی طرح کفر اور بے ایمانی کی گرمی میں انسانی روح کو حلاوت اور تروتازگی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد نماز مقرر کی ہے تاکہ وہ گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اور اس کی روحانی طاقتوں کو مضمحل نہ کر دے۔خدا تعالیٰ کا نام لینے سے اس کی محبت تازہ ہو جاتی ہے۔فرشتے قریب آتے ہیں اور شیطان دور بھاگتا ہے۔بیشک حکم یہی ہے کہ کپڑے پاک رکھو لیکن فرض کرو کسی کے پاس اور کپڑے نہیں تو پھر اُس کے لئے یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ نماز نہ پڑھے بلکہ اُسے یہی کہا جائے گا کہ خواہ کی تمہارے کپڑے گندے اور ناپاک ہیں پھر بھی تم انہی گندے اور ناپاک کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لو۔مثلاً کسی شخص کے پاس صرف ایک ہی تہہ بند ہے اور اسے شبہ ہے کہ وہ تہہ بند پاک نہیں رہا تو اُس کے متعلق شریعت کا یہ حکم نہیں ہوگا کہ وہ نماز نہ پڑھے بلکہ اس کے متعلق حکم یہ ہوگا کہ وہ اُسی تہہ بند کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ کپڑوں کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی بہر حال مقدم ہے۔مگر ہمارے ملک میں لوگ کپڑوں کا تو خیال رکھتے ہیں اور اپنے دل کو نا پاک ہونے دیتے ہیں۔اگر ہم کپڑے کی ناپا کی کا خیال کر کے نماز چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کپڑے کو پاک کرنے کا تو خیال کرتے ہیں لیکن اپنے دل کو پاک کرنے کا خیال نہیں کرتے۔اور یہ سراسر حماقت ہے۔پس اُس وقت جو کپڑا بھی میسر ہواُسی کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہوگا مگر یہ جائز نہیں ہوگا کہ کپڑے کی ناپاکی کے خیال سے اپنے دل کو نا پاک کر لیا جائے اور نماز کو چھوڑ دیا جائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تمہارے کپڑوں پر مٹی