خطبات محمود (جلد 31) — Page 143
1950ء 143 خطبات محمود کوئی دلیل نہیں کہ اُس نے یہ خط پارسل میں سے نکالا ہے۔ اس لئے لاز ما عدالت کو آپ کے حق میں فیصلہ کرنا پڑے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ تو نہیں ہو سکتا۔ جب میں نے خود پارسل میں خط ڈالا ہے تو میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں نے خط نہیں ڈالا ۔ چنانچہ آپ نے یہی بیان دیا کہ ہاں میں نے پارسل کے ساتھ ہی خط لکھ کر ڈال دیا تھا کیونکہ یہ خط اسی مضمون کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ سچائی آخر سچائی ہوتی ہے اور وہ اپنی ذات میں ایسی طاقت رکھتی ہے کہ دوسرے کا دل کانپ جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ سرکاری وکیل انگریز تھا، مقدمہ بھی ایک انگریز کے پاس تھا اور مقدمہ کرنے والی گورنمنٹ تھی ۔ جب انگریز وکیل پندرہ بیس منٹ بڑے جوش سے تقریر کر لیتا کہ ملزم کو عبرتناک سزا دینی چاہیے تو مجسٹریٹ اپنا سر ہلا کر کہہ دیتا کہ نہیں نہیں ۔ وہ پھر تقریر کرتا اور مجسٹریٹ پھر اپنا سر ہلا کر کہہ دیتا کہ نہیں نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انگریزی تو نہیں جانتے تھے لیکن آپ فرماتے تھے کہ جب وہ نونو (No۔ No) کہتا تو میں سمجھ جاتا کہ وہ وکیل کی تردید کر رہا ہے۔ آخر اس نے آپ کو بری کر دیا اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ یہ شخص اگر انکار کر دیتا اور کہہ دیتا کہ میں نے پارسل میں خط نہیں ڈالا تو میں اسے سزا نہیں دے سکتا تھا ۔ مگر باوجود اس کے کہ انکار کرنا اس کے لئے آسان تھا پھر بھی اس نے سچ بولا سکتا تھا۔ ہر باوجود اس کے کہ انکار کر اور بہادری کے ساتھ کہ دیا کہ میں نے واقع میں پارسل میں خط لکھ کر ڈالا ہے۔ جو شخص اتنی دلیری کے ساتھ سچ بولنے والا ہو میں اُسے سزا نہیں دے سکتا۔ تو سچائی اپنے اندر ایک بڑا رُعب رکھتی ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ سچائی کی اہمیت کو سمجھے اور کسی موقع پر بھی اس سے انحراف اختیار نہ کرے۔ اگر آپ لوگ سچائی پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ہزاروں ہزار آدمی جو ملانوں کے بہکانے کی وجہ سے آج ہماری جماعت کی مخالفت کر رہے ہیں وہ آخر آپ کی گواہیوں پر ہی اعتبار کریں گے اور آپ کی عظمت کا اقرار کریں گے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے بھی نئے سے نئے رستے ( الفضل مورخہ 5 رستمبر 1950ء) کھل جائیں گے۔ (انشاء اللہ ) 1: شملہ: کندھے پر ڈالنے یا سر سے باندھنے کی شال ( فیروز اللغات اردو جامع )