خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 131

$1950 131 خطبات محمود سناتے ہیں کہ حضور کی بیعت کے بعد ان پر یہ یہ فضل نازل ہوئے ، اس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا فر قرب حاصل ہوا، اس طرح اس کے نشانات کو انہوں نے دیکھا ، اس اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا۔اور پھر آپ کی مجلس میں آتا ہوں تو آپ بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں ترقی کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے یوں باتیں کرتا ہے، اس اس طرح اس کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں نے آپ کی بیعت کی ہوئی ہے ابھی میرے اندر کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔وہ ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کیا کرتے تھے گفتگو کرتے کرتے مولوی صاحب کہنے لگے حضور ! اتنی مدت میری بیعت پر گزر چکی ہے مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ میں پھر بھی جھڈو دا جھڈو ہی رہا۔یعنی میں پھر بھی برکا وجود ہی رہا اور مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں انہوں ہم نے روحانیت میں ترقی کر لی۔مگر چونکہ اہلحدیث ہونے کی وجہ سے ابتدا میں ان کی زبان محض چسکا کی عادی تھی اس لئے کچھ مدت تک احمدیت میں بھی انہوں نے زبان کا چسکا ہی لیا۔مگر چونکہ دل میں ایمان تھا اس لئے وہ اپنی اس حالت پر گھبرائے اور انہوں نے نہایت درد کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور ! آپ آئے اور آپ کی آمد سے ہزار ہا لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھ گئے۔مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ اتنے بڑے انعام کے باوجود میں پھر بھی جھڈو دا چھڈو ہی رہا اور میرے اندر کوئی تغیر پیدا نہ ہوسکا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایک اہم ترین سوال ہے اور ہمیں ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہنا چاہیے کہ احمدیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا ایک نور تو نازل ہوا مگر ہم نے اس نور سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔مثلاً پانچ سات موٹی موٹی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ اخلاق کے لئے مثال کے طور پر کام دیتی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان باتوں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ان میں ایک چیز جو در حقیقت مومن کا ایک نشان ہے وہ سچائی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ اس کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔بات کہیں گے تو خواہ جہالت سے سہی ، غفلت اور نادانی سے سہی ان کی بات سولہ آنے کچی نہیں ہوتی کچھ نہ کچھ جھوٹ اس بات کو خوبصورت بنانے کے لئے اس میں ضرور ملا دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے نشانات بیان کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیں گے۔جماعت کی تعداد می بیان کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیں گے۔اپنی مظلومیت کا ذکر کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیں گے۔مثلاً