خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 127

1950ء 127 خطبات محمود سے کیا پوچھتے ہو سائنس دانوں سے پوچھو کہ کیا یہ بات دنیا میں ثابت ہوگئی ہے یا نہیں کہ ایک دھات کو دوسری دھات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور کیا یہ درست نہیں کہ ایک جرمن سائنس دان نے گورنمنٹ کی لیبارٹریوں میں سونا بنا لیا ہے۔ اور چونکہ یہ باتیں درست ہوتی ہیں اس لئے بہت سے بے وقوف یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ شاید وہ بھی سونا بنانا جانتے ہیں۔ حالانکہ اصل سوال یہ نہیں کہ سونا بن سکتا ہے یا نہیں ۔ بلکہ ہمارا جس چیز سے واسطہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص جو ہمارے سامنے کیمیا گری کا دعوی پیش کر رہا ہے وہ خود سونا بنا سکتا ہے یا نہیں ۔ آخر وہ جو ہمارے پاس آیا ہے تو ہمارا پروفیسر بن کر نہیں آیا بلکہ ہمیں اپنے علم وفن کا نمونہ دکھانے آیا ہے اور اس کا ثبوت یہی ہو سکتا ہے کہ خود اس کی حالت اچھی ہو۔ مگر اس کا سارا ز ور اسی بات پر رہتا ہے کہ سونا بن سکتا ہے اور آخر میں وہ دوسروں کا زیور اُڑا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ اس کی دلیلیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کہیں باہر جارہا تھا کہ راستہ میں زور سے ایک بگولا اٹھا جس نے اسے اٹھا کر باغ میں پھینک دیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اُس باغ سے نکلا تو اس نے اپنے سر پر انگوروں کا ایک ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا جسے لے کر وہ اپنے گھر کی طرف چل پڑا ۔ راستہ میں اسے باغ کا مالک مل گیا۔ باغ کے مالک نے جو دیکھا کہ وہ انگوروں کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھائے ہوئے گھر کی طرف جا رہا ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ چوری کے انگور ہیں کیونکہ وہاں اور کوئی باغ تھا ہی نہیں ۔ اس نے فوراً اسے روک لیا اور کہا تم میرے باغ سے یہ انگور چرا کر کیوں لے جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ آپ ناراض نہ ہوں پہلے میری بات سن لیں اور پھر جو چاہیں کہیں ۔ اس نے کہا بہت اچھا پہلے اپنی پ بات سنالو۔ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میں سڑک پر جا رہا تھا کہ ایک بگولا اٹھا اور اس نے مجھے اڑا کر آ کے باغ میں پھینک دیا۔ بتایئے کیا اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ کہنے لگا پھر میں آپ کے باغ میں ہی کھڑا تھا کہ ایک دوسرا بگولا آیا اور میں پھر اڑنے لگا۔ ایسی حالت میں لازماً انسان اپنی جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ میں نے بھی اِدھر اُدھر ہاتھ مارے تو اتفاقا جہاں میں آکر رکا اور جہاں میرے ہاتھ لگے وہاں انگوروں کے خوشے تھے۔ ادھر ہاتھ مارتا تو ادھر کے انگورگر جاتے اور اُدھر ہاتھ مارتا تو اُدھر کے انگور گر جاتے۔ بتائیے کیا اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ باغ کے مالک نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں ۔ اس نے کہا اب آگے سنیے۔ جب انگور گرے تو اتفاقاً نیچے ایک ٹوکرا پڑا ہوا تھا۔ سارے انگور اس میں اکٹھے ہو گئے اور وہ بھر گیا۔ بتائیے میرا اس میں کوئی قصور ہے؟ باغ کے