خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 128

$1950 128 خطبات محمود مالک نے کہا یہ تو ساری باتیں ٹھیک ہیں۔میں نے مان لیا کہ بگولا آیا اور اس نے اٹھا کر تمہیں میرے باغ میں پھینک دیا۔میں نے یہ بھی مان لیا کہ تم نے اپنے بچاؤ کے لئے ہاتھ پاؤں مارے تو انگور گر گئے۔میں نے یہ بھی مان لیا کہ اُس وقت نیچے ٹو کر پڑا تھا جس میں انگور جمع ہوتے گئے۔مگر تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ انگوروں کا ٹوکرا اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑو۔وہ کہنے لگا بس یہی بات کی میں بھی سوچتا چلا آرہا تھا کہ یہ بات کیا ہوئی کہ انگور کسی کے ٹو کر کسی کا اور میں اسے اٹھا کر اپنے گھر کی طرف جارہا ہوں۔یہی سوال ہمارا کیمیا گر سے ہوتا ہے کہ ہماری تو یہ بحث ہی نہیں کہ سونا بن سکتا ہے یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ تمہیں سونا بنانا آتا ہے یا نہیں ؟ مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ تم نے خود لنگوٹی باندھی ہوئی ہے اور ہمارا گھر سونے کا بنانے آگئے ہو۔تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کا کوئی دلیل پیش کر دینا اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا جب تک وہ دلیل عملی طور پر اس شخص یا گروہ یا جماعت پر چسپاں نہ ہوتی ہو۔یہ تو ہر مذہبی انسان کہتا ہے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتا ہے۔ہندو بھی یہی کہتے ہیں، عیسائی بھی یہی کہتے ہیں، زرتشتی بھی یہی کہتے ہیں، یہودی بھی یہی کہتے ہیں، کنفیوشس کے پیر بھی یہی کہتے ہیں اور مسلمان بھی یہی کہتے ہیں۔اب خالی یہ کہہ دینے سے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتا ہے یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ کہنے والے کا اپنامذ ہب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اگر کسی ہند و یا بدھ سے یہ پوچھا جائے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے یا نہیں؟ اور وہ کہہ دے کہ مذہب ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارا مذ ہب سچا ہے؟ وہ کہے گا کہ میں تو یہ مانتا ہوں کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے مگر اس سے یہ کیونکر نتیجہ نکل آیا کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔تو محض کسی بات کا معقول ہونا یا محض کسی بات کا مدلل ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ مدلل اور معقول بات کہنے والے پر بھی چسپاں ہوتی ہی ہے یا نہیں۔مثلاً ایک عیسائی ہم سے پوچھتا ہے کہ دین نے تمہیں کیا فائدہ دیا ؟ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا معقول جواب دیں اور بتائیں کہ ہمیں دین پر عمل کرنے سے یہ فوائد پہنچتے ہیں۔دین کا فائدہ لازماً یا تو دنیا سے تعلق رکھتا ہو گا یا روحانیت سے تعلق رکھتا ہو گا۔اگر کہو کہ دین پر عمل کرنے سے ہم نے دنیا کا فلاں فلاں فائدہ حاصل کیا ہے تو وہ کہے گا کہ تم نے تو لنگوٹی باندھی ہوئی ہے اور میں اعلیٰ درجہ کا لباس رکھتا ہوں۔تم کچے مکانوں میں رہتے ہو اور میں مضبوط کوٹھیوں میں رہتا ہوں۔دشمن کے اس اعتراض