خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 125

1950ء 125 (20 خطبات محمود سچائی کی اہمیت کو سمجھو اور کسی موقع پر بھی اس سے منحرف نہ ہو۔ ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہو کہ احمدیت کے نور سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا (فرموده 18 اگست 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گو کوئٹہ سے یہاں آنے کے بعد آہستہ آہستہ دردوں کو افاقہ ہو رہا ہے لیکن ابھی میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کچھ چل سکتا ہوں لیکن کھڑے ہوتے وقت گھٹنے بوجھ برداشت نہیں کرتے اس لئے ابھی مجبوراً مجھے بیٹھ کر خطبہ دینا پڑتا ہے۔ جب میں جماعت کو دیر سے توجہ دلا رہا ہوں کہ ہر جماعت اپنے ساتھ کچھ خصوصیتیں رکھتی ہے۔ ج تک وہ خصوصیتیں اس جماعت کے لوگ اپنے اندر پیدا نہ کریں وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ جہاں تک دلیل اور عقل کا سوال ہے وہ خدا مہیا کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ساری عقل کی باتیں موجود ہیں اور قرآن کریم میں ساری دلیلیں موجود ہیں ۔ لیکن باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ساری عقل کی باتیں موجود ہیں اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ساری دلیلیں موجود ہیں پھر بھی قرآن کریم کو دنیا کے اکثر لوگ نہیں مانتے۔ عیسائیوں اور یہودیوں اور بدھوں اور ہندوؤں اور دوسرے غیر مذاہب کے لوگوں کو اگر اکٹھا کیا جائے تو وہ مسلمانوں کی تعداد سے کئی گنے زیادہ ہیں۔