خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 92

1950ء 92 (16) خطبات محمود مذہب کی پیش کردہ بہت سی صداقتیں ایسی ہیں جو بظاہر نہایت سادہ اور معمولی ہیں لیکن اگر دنیا پوری طرح ان پر کار بند ہو جائے تو باہمی کشمکش اور لڑائیوں کا سلسلہ یکسر بند ہو سکتا ہے (فرمودہ 21 جولائی 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: إِنْ تَكُونُوا تَألَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْ لَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ 1 اس کے بعد فرمایا: بہت سی صداقتیں دنیا میں ایسی ہیں جو نہایت چھوٹی ، نہایت ظاہر اور نہایت سادہ ہیں۔ لیکن جتنا کام اُن سے لیا جا سکتا ہے اُتنا ان بڑی بڑی ایجادوں سے نہیں لیا جا سکتا جن سے آج کل دنیا مرعوب ہو رہی ہے اور جن کی وجہ سے وہ قو میں اپنی علمی تحقیقات پر فخر کرتی ہیں۔ لیکن انسان کی یہ ایک عجیب حالت ہے کہ وہ ان سادہ اور چھوٹی چھوٹی صداقتوں سے کام نہیں لیتا بلکہ ہمیشہ ٹیڑھے اور پیچیدہ رستوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ دنیا کے اکثر انسانوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی نے ایک احمق سے پوچھا کہ مجھے بگلا پکڑنے کی ضرورت ہے کوئی ایسا طریق بتاؤ جس سے وہ پکڑا جا سکے۔ اس نے کہا تہجد کے وقت دریا کے کنارے چلے جاؤ بگلا وہاں بیٹھا ہوا ہوگا ۔ اپنے ساتھ کچھ موم لے جانا ، آہستہ آہستہ