خطبات محمود (جلد 31) — Page 65
خطبات محمود 65 $1950 جماعت نے آگ میں پڑے بغیر یا خون کی ندیوں میں سے گزرے بغیر ترقی کی ہو۔جب ہم قادیان میں تھے اور میں اس مضمون کو بیان کرتا تھا تو لوگ حیران ہو کر میری طرف دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ محض مبالغہ ہے اور ہمیں ہوشیار کرنے کے لئے استانی سے کام لیا جا رہا ہے۔اُس وقت اُن کا یہ کہنا جائز ہوسکتا تھا۔قادیان میں ہماری مثال ایسی ہی تھی جیسے کسی امیر زادے کو کسی نے گود میں اُٹھا لیا ہوا ہو۔وہاں ہمیں بھی خدا تعالیٰ گود میں اٹھائے ہوئے تھا۔اور اُس وقت ان باتوں کائنا کانوں کے لئے عجیب معلوم ہوتا تھا اور کسی کو اس بات پر یقین نہیں آسکتا تھا کہ ہمیں بھی آگ میں سے گزرنا ہوگا ہمیں بھی خون کی ندیوں میں سے چل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہوگا۔مگر وہ دن بھی آئے کہ جماعت ایک حد تک آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزری۔اور جہاں تک جائیدادوں کے کی رہ جانے کا سوال ہے ہماری جماعت کا ایک معقول حصہ جو دس یا بارہ فیصدی سے کسی صورت میں بھی کم نہیں کلی طور پر اپنی جائیدادوں سے محروم کر دیا گیا۔اس واقعہ کے بعد ہمیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم صاحبزادوں کی طرح اپنی زندگیاں گزار دیں گے اور گزشتہ نبیوں کی جماعتوں کے سے حالات میں سے نہیں گزریں گے محض ایک دھوکا ہے۔مگر یہ نہایت ہی حیرت انگیز اور قابلِ افسوس بات ہے کہ میں اب بھی دیکھتا ہوں کہ بجائے اس کے کی کہ ہم میں اب یہ احساس پیدا ہو جاتا کہ ہمیں بھی آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزرنا پڑے گا ہم اس واقعہ کو بھول گئے ہیں اور ہماری جماعت نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ اُس نے دوسرے لوگوں کو بھی ہمارے ساتھ شریک کر دیا تا وہ اس واقعہ پر نہیں نہیں۔اگر یہ واقعات صرف ہم پر ہی گزرتے تو دوسرے لوگ ہم پر ہنستے۔اُن کا منہ بند کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اُن کو بھی ہمارے ساتھ شریک کر دیا۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ یہ کوئی نرالی چیز تھی۔اس کا یہ مطلب تھا کہ تمہیں آگ میں پڑنے اور خون کی ندیوں میں چلنے کی عادت نہیں تھی۔تمہیں اس کی عادت ڈالنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ تم شرمندگی محسوس نہ کرو۔اس احسان نے کا یہ نتیجہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنے دلوں میں پختہ طور پر یہ چیز بٹھا لیتے کہ ہمیں بھی انہی حالات میں سے گزرنا ہوگا جن حالات میں سے گزشتہ انبیاء کی جماعتیں گزریں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ جماعت کو اس بات کا احساس ہو ان واقعات کو دیکھ کر ہمارے دوست اس طرح گزر جاتے ہیں