خطبات محمود (جلد 31) — Page 248
$1950 248 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر ایک انصاری کھڑے ائے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی مراد شاید انصار سے ہے کیونکہ مشورہ تو آپ کومل رہا ہے لیکن پھر بھی آپ بار بار مشورہ طلب کر رہے ہیں۔یا رسول اللہ ! ہم تو اس لئے خاموش بیٹھے تھے کہ حملہ آور لشکر مہاجرین کا رشتہ دار ہے۔اگر ہم نے لڑائی کا مشورہ دیا تو مہاجرین کا دل دُکھے گا اور وہ کہیں گے اچھا بھائی چارہ ہے کہ اب یہ ہمارے رشتہ داروں سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! شاید آپ اس لئے مشورہ مانگ رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو ہم حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔اُس انصاری نے کہا یا رسول اللہ ! وہ وقت تو ایسا تھا کہ ہمیں پتا نہیں تھا کہ آپ کی حیثیت اور شان کیا ہے اور چونکہ ہم آپ کی حیثیت اور شان سے ناواقف تھے اس لئے ہم نے وہ معاہدہ کیا۔یا رسول اللہ ! آپ مدینہ تشریف لائے اور آپ کے نشانات اور منجزات ہم نے دیکھے، آپ کی صداقت ہم پر ظاہر ہوئی اور ہم نے آپ کے مرتبہ اور شان کو پہچان لیا۔اب معاہدوں کا سوال نہیں رہا۔یا رسول اللہ ! ہم موسی کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ كه موسیٰ ! تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یا رسول اللہ ! ہم جب تک زندہ ہیں وہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔دشمن آپ تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آئے تو ئے۔پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے ( عرب لوگ سمندر سے ڈرتے تھے ) آپ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں اپنی سواریاں ڈال دو تو ہم بغیر کسی تردد کے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔8۔غرض جب ایمان بڑھ جاتا ہے تو قربانی حقیر ہو جاتی ہے اور جب ایمان کم ہوتا ہے تو قربانی کی عظمت بڑھتی جاتی ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ایک آدمی پانچ روپے چندہ لکھا کر یہ سمجھے گا کہ وہ لہو گا کر شہیدوں میں شامل ہو گیا بلکہ اس کا پھل بھی اُسے ملے گا۔کھیت میں اگر پانچ سیر گندم کا