خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 247

$1950 247 خطبات محمود وعدہ بھی ادا کر دے گا۔اگر وہ گزشتہ سالوں کے بقائے اور اس سال کے وعدے ادا نہ کریں تو بیشک انہیں اس فوج سے جو مجاہدینِ اسلام کی فوج ہے نکال دیا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ نئی شرطوں کے ساتھ ہر احمدی کے لئے تحریک جدید میں حصہ لینا آسان ہو جائے گا۔پہلے سال اگر کوئی پانچ روپے کی چندہ لکھاتا ہے تو دفتر کا فرض ہے کہ وہ اتنا چندہ لکھ لے۔اگر خدا تعالیٰ اُس کے ایمان کو مزید تقویت دے گا تو وہ اور چندہ لکھوائے گا۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگوں نے دفتر اول میں پہلے سال پانچ پانچ روپے کے وعدے لکھائے تھے اور اب اُن کے وعدے سینکڑوں تک پہنچ گئے ہیں کیونکہ اُن کا اخلاص م پہلے کی نسبت بڑھ گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے جانے والے انصار کا آپ سے جو معاہدہ ہوا تھا اور جس میں حضرت عباس بھی شریک تھے وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہا تو انصار اپنی جان و مال قربان کر کے دفاع کریں گے۔لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو انصار پر دفاع کی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔جب بدر کا موقع آیا اور مسلمانوں کا لشکر باہر گیا تو خیال تھا کہ ان کا مقابلہ یا تو تجارتی قافلہ سے ہوگا اور یا پھر مکہ سے آنے والے لشکر سے ان کی لڑائی ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ مقابلہ لشکر سے ہے مگر ساتھ ہی یہ اشارہ کیا گیا کہ ان لوگوں کو ابھی بتانا نہیں کہ لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر سے ہو گی۔جس طرح میرے منہ سے خدا تعالیٰ نے پہلے دس سال نکلوائے پھر اُ نہیں ہو گئے اِسی طرح بدر کے مقام پر پہنچ کر یہ پتا لگا کہ قافلہ تو نکل چکا ہے اب مکہ سے آنے والے لشکر سے ہی مسلمانوں کی لڑائی ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا کہ قافلہ نکل چکا ہے اب لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہوگی۔آپ لوگ مجھے اس بارہ میں مشورہ دیں۔مہاجرین نے مشورے دینے شروع کئے لیکن انصار خاموش رہے۔آپ نے پھر فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر اور مہاجرین اُٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور وہ کہتا یا رسول اللہ ! ہم تو مکہ والوں کی شرارتوں سے تنگ آگئے ہیں، مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں بھی وہ آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ہم قافلہ سے بھی لڑنے کے لئے آئے تھے اب اگر دوسرا لشکر بھی آ گیا ہے تو اس سے بھی ہمیں لڑنا چاہیے۔لیکن ہر ایک کا جواب سن کر