خطبات محمود (جلد 31) — Page 219
$1950 219 خطبات محمود بہر حال گزشتہ سال پانچ ہزار مہمانوں کے لئے بھی خیموں کی گنجائش نہیں نکل سکی تھی اس لئے اس سال تمیں چالیس ہزار مہمانوں کے لئے خیمے مہیا کرنے کا کوئی امکان نہیں۔پس یہ خیال بھی چھوڑ دیا جائے۔وہ یہ بتائیں کہ اس قلیل عرصہ میں وہ کتنی عمارتیں کھڑی کر لیں گے۔اور بتاتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ ان کے ایک افسر نے ناظر اعلیٰ کی موجودگی میں یہ کہا تھا کہ دوسرے کوارٹروں کے بنانے کی بھی اجازت دے دی جائے تا جلسہ سالانہ پر مہمانوں کے ٹھہرانے کی مشکل حل ہو جائے۔جن کوارٹروں کی اجازت دی گئی ہے اور جن کی دیوار میں ابھی تین فٹ اونچی نہیں ہوئیں وہ اگر تیار ہو جائیں تو ان میں ایک ہزار آدمی آ سکتا ہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہو اگر ایک ہزار کی اور گنجائش پیدا ہو جائے تو تمہیں ہزار مہمان ٹھہرانے کا بندوبست ہو جائے گا اُس کی تجویز پر غور کر کے وہ کوئی چیز میرے سامنے پیش نہ کریں کیونکہ یہاں ایک دو ہزار کا سوال نہیں یہاں تمیں چالیس ہزار کا سوال ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر چھپن ہزار روپیہ منظور کر دیں تو دوسرے کوارٹر شروع کر دئیے جائیں تا جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے ٹھہرائے جانے کا انتظام ہو جائے۔جن کوارٹروں کی پہلے منظوری دی جا چکی ہے اور جن میں ایک ہزار مہمان ٹھہرائے جاسکتے ہیں وہ تو تین ماہ میں بھی پورے نہیں ہوئے اور ابھی ان کی دیوار میں قریباً تین تین فٹ اونچی ہوئی ہیں اور اب دوسرے کوارٹروں کی منظوری کی درخواست کی جاتی ہے جن میں مزید ایک ہزار مہمان ٹھہر سکیں گے۔جن کا پہلے وہ نقشہ منظور کرائیں گے، پھر کمیٹی سے اجازت حاصل کریں گے پھر ہیں تعمیر کرنا شروع کریں گے، اس طرح مارچ آجائے گا اور پھر بھی صرف دو ہزار مہمانوں کے ٹھہرائے جانے کا انتظام ہوگا۔در حقیقت تمام نقائص اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے علوم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے حساب بنایا ہے، منطق بنائی ہے، عقل بنائی ہے ، طلب بنائی ہے۔جب کوئی کام کرو تو ان ساری چیزوں کو دیکھ لو اور سوچ لو کہ کیا وہ کام طبی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام حسابی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام عقلی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام م منطقی طور پر ٹھیک ہے؟ جب وہ سب معیاروں پر پورا اتر آئے تو اُسے کر لو۔مثلاً فرض کرو جس افسر نے کہا ہے کہ اگر دوسرے کوارٹروں کی اجازت مل جائے تو مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔اس کی میں تردید کر دوں اور کہہ دوں کہ اتنی جگہ میں تمیں ہزار مہمان نہیں آسکتے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بات حسابی طور پر یوں ہے عقلی طور پر یوں ہے۔مثلاً میں نے