خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 216

$1950 216 خطبات محمود ہے لیکن دو تین دن میں عمارتیں نہیں بنائی جاسکتیں۔بہر حال قاضی صاحب نے لکھا کہ اس کے لئے سب کمیٹی بنائی جائے اور صدر انجمن احمد یہ سات آٹھ دن کے بعد قاضی صاحب کے سوال کا جواب یہ دیتی ہے کہ قاضی صاحب وہ کمیٹی خود ہی مقرر کر دیں۔پھر سات آٹھ دن کے بعد قاضی صاحب یہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں کمیٹی صدر انجمن احمد یہ مقرر کرے۔اور خیال کیا جاتا ہے کہ ایک دن الہ دین کا چراغ آئے گا اور اسے مل کر ہم کہہ دیں گے کہ عمارت کھڑی کر دو اور جن وہ عمارت کھڑی کر دے گا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے گزشتہ سال ان دنوں عمارتیں شروع ہوگئی تھیں لیکن جتنی تجویز تھی اس سے نصف کے قریب بنی تھیں۔اُس وقت سارے معمار اور مزدور فارغ تھے وہ سارے کام پر لگ گئے تھے۔لیکن اب جو معمار اور مزدور یہاں ہیں وہ دوسری عمارتوں پر لگے ہوئے ہیں۔پھر اُس وقت کچھی اینٹ تیار کرنے کا ایک بڑا محکمہ مقررتھا اور اس وقت وہ محکمہ موجود نہیں۔گویا دوبارہ نئے سرے سے انتظام کرنا ہوگا۔کچھ دنوں تک صدر انجمن احمد یہ کہہ دے گی کہ ایک آدمی سانچوں کے لئے گیا ہے۔پھر کہہ دے گی کہ ایک آدمی ہتھیرے تلاش کرنے گیا ہے۔پھر جب یکم دسمبر آ جائے گی تو کہہ دیں گے افسوس ہے باوجود کوشش کے کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔اس لئے جلسہ سالانہ دسمبر کی تاریخوں میں نہ کیا جائے۔لیکن اگر وہ جلسہ سالانہ کا انتظام دسمبر میں نہیں کر سکیں گے تو مارچ میں کہاں انتظام کریں گے۔اب یہی صورت ہے کہ ربوہ کا ہر ساکن اپنے آپ کو معمار اور مزدور سمجھ لے اور جس طرح لکھیاں آپس میں مل کر چھٹتا تیار کر لیتی ہیں وہ سارے کے سارے مل کر کام کریں اور عمارتیں کھڑی کر دیں۔فرقان فورس کے والٹیئر ز نے خود محنت کر کے اپنے رہنے کے لئے مکان بنالئے ہیں اور اب بھی انہوں نے مجھے تحریر کیا ہے کہ اگر انہیں زمین مل جائے تو وہ خود مکان بنالیں گے۔اگر اس رنگ میں یہ کام ہو تو ممکن ہے کام ہو جائے اس کے علاوہ مجھے اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔لیکن اگر ربوہ کا ہر ساکن اس کام پر لگ جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ نہ لیکچرار اپنا لیکچر تیار کرسکیں گے اور نہ دفاتر میں کام کرنے والے کسی چندہ کی تحریک کر سکیں گے۔دو ماہ عملہ معطل ہو کر عمارتوں کے کام میں لگا رہے گا۔مگر مایوس ہوکر بیٹھنا چونکہ اس سے بھی زیادہ حماقت ہے۔پس یہاں کی جماعت کو بہر حال اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنے فرض کو سمجھتے ہوئے اس کام کو اپنے تمام کاموں پر مقدم کر لینا چاہیے۔جدید عملاً اس خطبہ کے بعد جب عمارتوں کی طرف توجہ ہوئی تو ایسا ہی ہوا