خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 203

$1950 203 خطبات محمود کہ جس طرح چاہوا نتظام کرو۔یہ واقعہ سُنا کر لارڈ ولنگڈن نے کہا کہ کام وقت بھی چاہتے ہیں مگر آپ کہتے ہیں کہ یہ معاملات بہت جلد طے ہو جائیں۔میں نے کہا مجھے تو کام سے غرض ہے اگر آپ وعدہ کریں کہ مسلمانوں کی دقتیں اور اُن کی مشکلات دور کر دی جائیں گی تو وزیر ہند نے تو آپ کو بارہ مہینے کی مہلت دی تھی میں آپ کو اٹھارہ مہینے دینے کے لئے تیار ہوں۔اس گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کے مخالفانہ رویہ میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔پھر میں نے لارڈ ولنگڈن سے کہا کہ میں کشمیر میں ایک وفد بھجوانا چاہتا ہوں تا کہ وہ وہاں کے حالات معلوم کرے۔اگر مسلمانوں کی غلطی ہو تو وہ وفد مسلمانوں کو سمجھائے اور اگر ریاست کی غلطی ہو تو اُس کو توجہ دلائے۔چنانچہ میں نے نام بھی بتائے جو گورنمنٹ کے لئے قابلِ اعتراض نہ تھے۔اس میں ڈاکٹر اقبال صاحب تھے، خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب تھے، خواجہ حسن نظامی صاحب تھے ، مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی تھے جو کانگرسیوں میں سے لئے گئے تھے اور پانچویں سر ذوالفقار علی خان صاحب تھے۔میں نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ یہ لوگ وہاں جائیں اور حالات کا جائزہ لیں۔وائسرائے نے کہا اس وفد پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔میں نے کہا ریاست تو ضرور اعتراض کرے گی۔انہوں نے کہا اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں اور پھر انہوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ آپ یہ وفد ضرور بھجوائیں۔میں نے واپس آتے ہی مہاراجہ کو تار دیا کہ ہمارا ایک وفد ریاست کے حالات معلوم کرنے کے لئے آنا چاہتا ہے آپ اُسے آنے کی اجازت دیں۔اِس پر دوسرے ہی دن سر ہری کشن کول کا جواب آ گیا کہ افسوس ہے اس وقت ملک میں بہت شورش ہے اس لئے مہاراجہ صاحب اس قسم کے وفد کے آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔میں نے وائسرائے کو بھی لکھی کہ آپ کہ آپ نے زور دے کر مجھے کہا تھا کہ ریاست میں یہ وفد ضرور بھجوا دیا جائے اور آپ کے کہنے پر ہی میں نے مہاراجہ کو تار دیا۔مگر اُس کا یہ جواب آ گیا ہے کہ چونکہ ملک میں بہت شورش ہے اس لئے مہاراجہ صاحب کسی وفد کو آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک رنگ میں آپ نے میری بہتک کروائی ہے کیونکہ آپ کے کہنے اور زور دینے پر ہی میں نے یہ تار دیا تھا۔لارڈولنگڈن کا جواب آیا کہ معلوم ہوتا ہے اُن کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے آپ دوبارہ تار دیں۔مطلب یہ تھا کہ اب ہم خود انہیں توجہ دلا رہے ہیں اب وہ انکار نہیں کریں گے۔میں نے پھر تار دے دی۔اس تار کا دوسرے نیسرے دن یہ جواب آیا کہ اب ملک میں بالکل امن و امان ہے کسی وفد کے آنے کی ضرورت نہیں۔