خطبات محمود (جلد 31) — Page 204
$1950 204 خطبات محمود اس پر میں نے پھر وائسرائے کو لکھا کہ دنیا میں دو ہی حالتیں ہوتی ہیں یا تو امن کی حالت ہوتی ہے یا تی فساد کی حالت ہوتی ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وفد بھی ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہمیشہ جاتے رہتے ہیں۔مگر مہاراجہ جموں کبھی تو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ فساد ہے اس لئے وفد کی ضرورت نہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ چونکہ امن ہے اس لئے وفد کی ضرورت نہیں۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ وفد کی ضرورت کب ہوتی ہے؟ وفد کی ضرورت یا تو امن کی حالت میں ہوگی یا فساد کی حالت میں ہوگی۔مگر ان کے کی نزدیک نہ امن کی حالت میں وفد کی ضرورت ہے اور نہ فساد کی حالت میں وفد کی ضرورت ہے پھر وفد کی کس حالت میں ضرورت ہوا کرتی ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لارڈ ولنگڈن کا نظریہ اُس دن سے بدل گیا اور انہوں نے ریاست کے معاملات کی کڑی نگرانی شروع کر دی اور مسلمانوں کی دقتیں بہت حد تک دور ہو گئیں۔میں دیکھتا ہوں کہ یہی حالت ہماری جماعت کی بھی ہے۔جب امن ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اب تبلیغ کی ضرورت نہیں کیونکہ امن ہے۔جیسے مہا راجہ جموں نے کہا تھا کہ اب وفد کی ضرورت نہیں کیونکہ امن ہے۔اور جب فساد ہوتا ہے تو کہتے ہیں اب تبلیغ کی ضرورت نہیں کیونکہ فساد ہے۔جیسے مہاراجہ جموں نے کہا تھا کہ چونکہ ملک میں فساد ہے اس لئے کسی وفد کی ضرورت نہیں۔گویا ہماری جماعت نے بھی وہی غیر معقول اور خلاف عقل رویہ اختیار کر لیا ہے کہ امن ہے اس لئے تبلیغ کی ضرورت نہیں ، فساد ہے اس لئے تبلیغ کی کی ضرورت نہیں۔معلوم ہوا نیا میں تبلیغ کا کوئی موقع ہی نہیں ، مرنے کے بعد جنت میں تبلیغ ہوا کرے گی۔یاد رکھو یہ واقعات تمہیں بیدار کرنے کے لئے ہیں۔تم کب سمجھو گے کہ تم ایک مامور کی جماعت ہو۔تم کب سمجھو گے کہ تم دنیا سے نرالے ہو۔تم کب سمجھو گے کہ خدا تمہارے خون کے قطروں سے دنیا کی کھیتیوں کو نئے سرے سے سرسبز و شاداب کرنا چاہتا ہے۔جب تک تم یہ نہیں سمجھو گے نہ خدا تعالیٰ کی مددتمہارے پاس آئے گی اور نہ تم ترقی کا منہ دیکھ سکو گے۔تم مت سمجھو کہ تبلیغ کے نتیجہ میں بہت کم لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کے نتیجہ میں بعض کے نزدیک مکہ میں صرف 80 اور بعض کے نزدیک 300 آدمی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔گویا تیرہ سال کی تبلیغ سے ان دونوں میں سے جو تعداد بھی سمجھ لو 80 سمجھو یا 300 سمجھو صرف اتنے لوگ ہی اسلام میں داخل ہوئے۔لیکن جب وقت آیا تو دو سال کے اندر اندر سارا عرب مسلمان ہو گیا۔اصل میں یہ چیز بطور امتحان