خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 185

$1950 185 خطبات محمود مجھتی تھی کہ خبر نہیں کہ کب مجھے بیوگی کی خبر آتی ہے۔اس عرصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے تشریف لے گئے۔اتنے دنوں کی جدائی کے بعد قدرتی طور پر خاوند کے دل میں محبت کے جذبات پیدا ہونے تھے۔وہ پیار کرنے کے لئے اپنی بیوی کے قریب پہنچا مگر جونہی خاوند اُس کے قریب آیا تو اُس نے زور سے اُس کے سینہ پر ہاتھ مار کر دھکا دے دیا اور اُسے کہا تمہیں شرم نہیں آتی خدا کا رسول ایک خطر ناک لڑائی کے لئے باہر نکلا ہے اور تم کو اپنی بیوی سے پیار سوجھا ہے۔میں تو جتنا سوچتا ہوں مجھے آج کوئی عورت ایسی دکھائی نہیں دیتی جو ایسے وقت میں اتنا شاندار نمونہ دکھانے کے لئے تیار ہو جائے۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس معاملہ میں بہت حد تک خوش قسمت ہوں اور اس نے مجھے ایسی بیویاں بھی دی ہیں جو دین کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں کرنے والی ہیں۔لیکن میں تو سوچا کرتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں اپنے آپ کو اس معاملہ میں خوش قسمت سمجھتا ہوں میرا ذہن کبھی بھی تسلی نہیں پاتا کہ اگر ایسا موقع ہو تو میری بیوی یہی ایمان دکھائے گی۔اُس شخص پر بھی اس کا اتنا اثر ہوا کہ پھر اُس نے بیوی کی طرف رُخ نہیں کیا، گھوڑے پر چڑھا اور جنگ میں چلا گیا۔ہندہ ، وہ ہندہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل تک دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے اتنا بغض تھا کہ حضرت حمزہ کے متعلق اس نے اعلان کیا تھا۔کہ میں اُس شخص کو اتنا انعام دوں گی جو ان کا کلیجہ نکال کر مجھے دے اور ان کا مثلہ کرے۔چنانچہ جب حضرت حمزہ شہید ہوئے تو ایک شخص نے انعام لینے کے لئے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکالا اور ان کے ناک کان بھی کاٹے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ اتنا بڑا ابتلاء تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ نہایت رحیم و کریم تھے آپ نے فرمایا مجھے اس سے اتنا صدمہ پہنچا ہے کہ میں جب تک ان کے ستر سرداروں سے یہی معاملہ نہ کر لوں مجھے چین نہیں آئے گا۔Z اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو الہام ہوا کہ ہمارے نبی کا یہ مقام نہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا ہم بدلہ نہیں لیتے جو کچھ دشمن نے کیا ہے اپنے مقام کے لحاظ سے کیا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے عفو اور درگزر کا مقام عطا فرمایا ہے۔8 وہ ہندہ مسلمان ہوتی ہے اور مسلمان ہو کر اسلام اور ایمان کی چاشنی اس کو نصیب ہو جاتی ہے۔اس کے بعد ایک عظیم الشان جنگ عیسائیوں سے پیش آئی جس میں بعض اندازوں کے مطابق تین لاکھ اور بعض اندازوں کے مطابق دس لاکھ عیسائی لشکر تھا اور رومی فوج تھی۔یہ نہایت ٹرینڈ اور تربیت یافتہ تھی۔