خطبات محمود (جلد 31) — Page 151
$1950 151 خطبات محمود لگ جائے تو تم اسے دھوتے ہو۔لیکن دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ساری زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیا ہے۔6 گویا وہی مٹی جو کپڑوں پر لگ جائے تو تم اُسے صاف کرتے ہو اُسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے لئے پاک قرار دے دیا اور فرمایا کہ اگر مسجد نہ ہو تو تم مٹی پر نماز پڑھ لو۔کیونکہ نماز ایک ایسی چیز ہے جسے کسی صورت میں ترک نہیں م کیا جاسکتا۔یوں مٹی کپڑوں پر لگ جائے تو انسان اُسے دھونے کی کوشش کرتا ہے بلکہ غریب سے غریب آدمی بھی ہفتہ عشرہ کے بعد اپنے کپڑوں کو ضرور دھوتا ہے۔وہ کپڑے کیوں دھوتا ہے؟ اس لئے کہ مٹی کی وجہ سے وہ میلے ہو جاتے ہیں۔پس کپڑے کی صفائی کے یہ معنی ہیں کہ اُن پر مٹی پڑ گئی تھی جسے دھو کر صاف کیا جاتا ہے۔لیکن جب مسجد نہیں ملتی تو ہماری شریعت اسی مٹی کو پاک قرار دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو نماز پڑھ لو۔پس نماز ایک نہایت ہی اہم چیز ہے اور دوسری تمام چیزیں اس کے تابع ہیں۔بیشک اپنے کپڑوں کو صاف رکھو بلکہ مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے کپڑوں کی صفائی کا خیال رکھے اور ان کو ہر قسم کی غلاظت اور گندگی سے بچائے۔لیکن اگر ایسا وقت آ جائے کہ کپڑے مشتبہ حالت میں ہوں اور پانی نہ ہو جس سے انسان انہیں دھو سکے یا نئے کپڑے نہ ہوں جن کو تبدیل کر سکے اور نماز کا وقت آجائے تو پھر اُس کا یہی فرض ہے کہ انہی کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے اور کپڑوں کا خیال نہ کرے۔“ الفضل مورخہ 6 مارچ 1950 ء ) 1 صحیح مسلم کتاب صلواة المسافرين و قصرها۔باب صلواة المسافرين و قصرها :2 وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوة 3 4 5 إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يُفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا (النساء : 102) صحیح بخاری کتاب الاذان باب وجوب القراءة للامام و الماموم في الصلوات كلها صحیح بخاری کتاب الايمان باب سؤال جبريل النبي عن الايمان والاسلام :5 كنز العمال كتاب الغزوات والوفود من قسم الافعال باب غزواته و بعوثه ، غزوة الخندق حديث نمبر 30077 جلد 10 صفحہ 204، مطبوعه بيروت لبنان 1998ء صحیح بخاری کتاب الصلواة باب جعلت لى الارض مسجدا و طهورا