خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 145

$1950 145 خطبات محمود جاتی تھی سفر میں اتنی ہی پڑھی جاتی ہے۔لیکن جو لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیم ہوں اُن کو دُگنی پڑھنی پڑتی ہے۔قرآن کریم میں جو قصر کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ سفر کی نمازوں کے متعلق نہیں لیکن مسلمانوں نے اپنی غلطی سے اسے سفر کی نمازوں کے متعلق سمجھ لیا۔یہی وجہ ہے کہ انہیں قصر کے معاملہ میں غلط فہمی ہوئی اور وہ غلط راستہ پر جا پڑے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو تو تم نمازوں کو قصر کر سکتے ہو 2 اس سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر امن ہو تو پھر مسافر کے لئے قصر کرنا جائز نہیں حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ سفر میں اُتنی ہی نماز پڑھی جاتی ہے جتنی پہلے پڑھی جاتی تھی۔البتہ حضر میں دگنی کر دی گئی ہے۔یہ نہیں کہ پہلے چار چار رکعتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر سفر میں دو دو کر دی گئیں بلکہ پہلے دو رکعت نماز ہی ہوا کرتی تھی۔پھر سفر میں تو دورکعتیں ہی رہ گئیں اور حضر میں چار کر دی گئیں۔باقی قرآن کریم میں جس قصر کا ذکر آتا ہے وہ اور ہے اور اُس کا سفر کی نمازوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نماز کے متعلق ہماری شریعت نے یہ ہدایت دی ہے کہ اسے آہستہ آہستہ، اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کیا جائے۔احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیر دیا۔جب وہ نماز پڑھ چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی تو پھر نماز پڑھ۔اس پر اُس نے دوبارہ نماز پڑھی۔جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی تو پھر نماز پڑھ۔اُس نے پھر نماز پڑھی۔مگر جب وہ تیسری مرتبہ فارغ ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی تو پھر نماز پڑھ اس پر اُس نے کہا یا رسول اللہ ! کم مجھے تو ایسی ہی نماز پڑھنی آتی ہے اگر نماز پڑھنے کا کوئی اور طریق ہو تو آپ بتا دیں تا کہ میں اُس طرح نماز پڑھوں۔آپ نے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جلدی جلدی نماز پڑھنا جائز نہیں۔3 اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہو تو اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو اور ٹھہر ٹھہر کر سورہ فاتحہ وغیرہ پڑھو۔رکوع میں جاؤ تو تمہاری پیٹھ سیدھی ہو اور آہستہ آہستہ تسبیح کرو۔رکوع کے بعد کھڑے ہو تو آرام سے کھڑے ہو اور کلمات مسنونہ دُہراؤ۔سجدہ میں جاؤ تو ٹھہر ٹھہر کر سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہو۔یہ نہیں