خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 129

$1950 129 خطبات محمود سے بچنے کے لئے تم یہ کہا کرتے ہو کہ دین کا فائدہ روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ روحانیت کیا چیز ہے؟ اور آیا وہ ہم میں پائی بھی جاتی ہے یا نہیں ؟ اگر کہو کہ دین کے نتیجہ میں جنت ملتی ہے تو وہ کہے گا کہ یہ تو میرا بھی اعتقاد ہے کہ مجھے جنت ملے گی۔تم یہ بتاؤ کہ تمہیں دین سے حاضر فائدہ کیا حاصل ہوا؟ اگر کہو کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ کہے گا کہ نمازیں میں بھی پڑھتا ہوں۔اگر تم کہو کہ ہم روزے رکھتے ہیں تو وہ کہے گا کہ میں بھی روزے رکھتا ہوں۔اور واقع یہ ہے کہ اس قسم کی عبادات تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ہندوؤں میں بھی ہیں، یہودیوں میں بھی ہیں ، عیسائیوں میں بھی ہیں، زرتشتیوں میں بھی ہیں۔پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ ہماری نماز اچھی ہے اور تمہاری نماز اچھی نہیں۔اور اگر تم دلیل سے ثابت بھی کر دو کہ ہماری نماز اچھی ہے تو وہ کہے گا کہ اصل چیز تو نتیجہ ہے۔تم یہ بتاؤ کہ تمہیں ان نمازوں سے حاصل کیا ہوا۔مثلاً اگر تم ثابت کر دو کہ زمین کے اندر فلاں فلاں کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن کے نتیجہ میں شکر پیدا ہوتی ہے تو پھر کیونکر اس سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ سرکنڈا میٹھا ہوتا ہے۔تو گو یہ بات درست ہوگی کہ زمین میں بعض کیمیاوی چیزیں پائی جاتی ہیں اور یہ بات بھی درست ہوگی کہ انہی کے نتیجہ میں شکر پیدا ہوتی ہے اور پھر یہ بات بھی درست ہوگی کہ یہ شکر کسی نہ کسی پودے میں جائے گی۔مگر تم یہ بتاؤ کہ آیا سننے والا سر کنڈے کو چوسے گا یا نہیں کہ کیا وہ فی الواقع میٹھا ہے یا مجھے دھوکا دیا گیا ہے۔جب وہ سر کنڈا چوسے گا تو اس میں اسے کوئی مٹھاس نظر نہیں آئے گی۔لیکن جب وہ گنا چوسے گا تو اس میں سے یقینی طور پر مٹھاس محسوس ہوگی۔اب جہاں تک سائنس کا تعلق ہے یہ بات درست ہے کہ زمین میں بعض کیمیاوی مادے پائے جاتے ہیں۔یہ بات بھی صحیح ہوگی کہ جس چیز میں وہ کیمیاوی مادے چلے جائیں وہ میٹھی ہو جاتی ہے۔مگر یہ بات غلط ہوگی کہ سرکنڈا میٹھا ہوتا ہے کیونکہ سرکنڈے نے وہ مادہ نہیں چھو سا صرف گئے نے پچوسا ہے۔اسی طرح خواہ ہم دلائل کے زور سے یہ ثابت کرتے چلے جائیں کہ اسلام اپنے اندر فلاں فلاں خوبیاں رکھتا ہے پھر بھی یہ سوال قابل حل رہ جائے گا کہ اسلام پر عمل کر کے ہم نے کیا پایا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ مولوی برہان الدین صاحب قادیان آئے۔مولوی صاحب اہلحدیث کے بڑے لیڈر تھے۔احمدیت قبول کرنے کے بعد قوم نے ان کو چھوڑ دیا اور وہ غربت میں زندگی بسر کرنے لگے۔ان کا طریقہ تصوف کا سا تھا۔کمائی بھی نہیں کیا کرتے تھے۔