خطبات محمود (جلد 31) — Page 5
$1950 5 خطبات محمود کے وعدوں کی کمی ہے حالانکہ کام ہمارا بہت بڑھ رہا ہے اور بڑھتا چلا جائے گا۔ہمارا سالانہ بجٹ ابھی اتنا نہیں کہ اُس سے ایک چھوٹے سے قصبہ کا کام بھی کیا جائے۔مگر ہم اسی بجٹ سے ساری دنیا کا کام کر رہے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم اتنی چھوٹی سی رقم سے اس پر قادر ہو گئے ہیں۔بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنی مقدرت کے مطابق اپنا کام بڑھاتے جائیں۔جو قو میں ٹھہر جاتی ہیں وہ ترقی کی طرف نہیں جاسکتیں۔دنیا کو خدا تعالیٰ نے اس طور پر بنایا ہے کہ جو کھڑا ہوا مرا۔گویا کھڑا ہونا ایک موت ہے۔یہ بات خوب یاد رکھو کہ کھڑا ہونا کوئی چیز نہیں۔یا تم آگے بڑھو گے یا پیچھے ہٹو گے تم کسی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔الہی قانون تمہیں کھڑا نہیں ہونے دے گا۔جو بھی کھڑا ہوگا یقیناً پیچھے جائے گا۔پس ضروری ہے کہ ہم اپنا قدم آگے کی طرف بڑھائیں۔میں نے احباب کو اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ ہمارا ارادہ ہے کہ اس سال تین جگہ پر اپنے نئے مشن کھولیں۔اور پھر بعض مبلغوں کا آپس میں تبادلہ بھی ہو رہا ہے یعنی بعض مبلغین کو واپس بلایا جارہا ہے اور بعض کو اُن کی جگہ پر بھجوایا جارہا ہے۔اس کی وجہ سے اخراجات میں تھیں چالیس ہزار کی زیادتی ہو گی۔ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے سیاسی مرکز واشنگٹن میں جہاں اُن کا پریذیڈنٹ رہتا ہے اپنا مشن جلد کھول دیں۔اور پھر بجائے اس کے کہ ہم کرایہ پر وہاں مکان لیں ، اپنا مکان خریدیں تا وہ ہمارا مستقل مرکز ہو۔چنانچہ ایک اعلی جگہ پر ایک مکان خرید لیا گیا ہے جو پریذیڈنٹ کے مکان کے بالکل قریب ہے۔اتنا قریب تو نہیں جو ہم سمجھتے ہیں بلکہ جتنا ٹریفک کی سہولت کی وجہ سے وہاں قریب سمجھا جاتا ہے قریب ہے۔اور یہ مکان غالبا ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں آئے گا۔یہ تین منزلہ مکان ہے۔علاوہ پانچ رہائشی کمروں کے ڈائینگ روم اور سٹنگ روم وغیرہ بھی ہیں۔اس مکان کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو بھی دکھا لیا جائے اور اُن کی پسندیدگی حاصل کر لی جائے۔سو آج ہی مجھے ایک تار ملا ہے جس میں لکھا ہے کہ مکان چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی دکھا دیا گیا ہے اور انہوں نے اسے پسند کیا ہے۔خاص طور پر اُنہوں نے مکان کے محلِ وقوع کو بہت پسند کیا ہے۔یہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا مزید خرچ بھی اس سال زائد پڑے گا۔اسی طرح ہالینڈ میں بھی ہم مسجد بنانے کی تجویز کر رہے ہیں۔غالبا ایک لاکھ کے قریب وہاں بھی خرچ آئے گا۔غرض قریباً تین لاکھ روپیہ کا خرچ اس سال مزید اٹھا نا پڑے گا۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ بجائے اس کے کہ سستی کرے اپنے قدم تیز