خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 106

$1950 106 خطبات محمود میں سورۃ فاتحہ پڑھے گا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہ اس نے ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی پھر بھی کوئی نماز بغیر سورۃ فاتحہ پڑھے نہیں ہوتی۔غرض ہر مسلمان جو نماز پڑھتا ہے وہ ہر نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے۔جو مسلمان نماز ہی نہیں پڑھتا اس کا یہاں ذکر نہیں۔لیکن جو مسلمان نماز پڑھے گا وہ خواہ کسی فرقہ کا ہوشیعہ ہوسکتی ہو، وہابی ہو، حنفی ہو حنبلی ہو ، شافعی ہو، مالکی ہو۔پھر آگے وہ فرقے آ جاتے ہیں جو روحانی کہلاتے ہیں اُن سے تعلق رکھنے والا خواہ قادری ہو، چشتی ہو، نقشبندی ہو، سہر وردی ہو یا ان کے علاوہ جو دوسرے فرقے ہیں اُن میں سے کسی کے ساتھ وہ تعلق رکھتا ہو یا اس زمانہ میں خواہ وہ احمدی ہو بہر حال جو بھی نماز پڑھے گا وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ضرور کہے گا اور جب وہ ہر نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتا ہے تو کوئی نہ کوئی مضمون اُس کے ذہن میں ہونا ضروری ہے۔کیا تم نے کوئی ایسا فقیر دیکھا ہے جو کسی گھر کے دروازے پر جا کر دستک دے اور جب گھر کا مالک پوچھے کہ تم کیا مانگتے ہو؟ تو وہ کہے مجھے معلوم نہیں میں کیا مانگتا ہوں۔تم نے ہزاروں فقیر دیکھے ہوں گے مگر ایسا کوئی فقیر نہ دیکھا ہو گا جو مانگ رہا ہو لیکن اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا مانگ رہا ہے۔اس طرح جب تم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیھم‎ پڑھتے ہو تو کوئی نہ کوئی چیز تمہارے ذہن میں ہونی ضروری ہے اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کیا مانگ رہے ہو یا کن چیزوں میں سے کوئی چیز مانگ رہے ہو۔ایک فقیر کئی چیزیں بیک وقت بھی مانگ لیتا ہے۔مثلاً وہ کہہ دیتا ہے پیسے دے دیں یا روٹی دے دیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کھانا تیار نہ ہو اور اسے پیسے مل جائیں تو وہ بازار سے کھانا خرید لے۔بہر حال جب کوئی فقیر مانگتا ہے تو اُس کے ذہن میں کوئی معتین چیز ہوتی ہے۔یا تو وہ ایک چیز بیان کر دیتا ہے اور یا وہ چند چیزیں اکٹھی کی بیان کر دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان میں سے ایک اسے مل جائے۔بہر حال اُس کے ذہن میں یہ ضرور ہوتی گا کہ وہ کیا چیز مانگ رہا ہے۔لیکن سورۃ فاتحہ پڑھنے والوں میں سے اکثر سے پوچھو تو انہیں یہ علم ہی نہیں ہوگا کہ وہ کیا مانگ رہے ہیں۔اور اس معاملہ میں میں احمدیوں کو دوسرے مسلمانوں سے ممتاز نہیں پاتا۔حالانکہ جب کوئی شخص مانگتا ہے تو وہ مسئول چیز کو وصول کرنے کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔مثلاً جب کوئی دوسرے گھر سے سالن مانگنے جائے تو وہ اپنے ساتھ پلیٹ بھی لے جاتا ہے یا آٹا مانگنے جائے تو وہ اپنے