خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 68

$ 1949 68 80 خطبات محمود چیزوں میں سے کسی کا بھی احساس نہیں ہوتا کیونکہ ارد گرد ہمسائے ہوتے ہیں۔گاؤں اور شہر آباد ہوتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ یہاں کسی حملے کا ڈر نہیں۔گویا وہ قوم کی وجہ سے سانپوں اور بچھوؤں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے شیروں اور چیتوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے گیدڑوں کے اور لومڑوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے ڈاکوؤں اور رہزنوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے مزدوری کرنے کے قابل ہوتا ہے، تعلیم کا انتظام ہوتا ہے، تجارت کر سکتا ہے، اسی طرح وہ قوم کی وجہ سے اور کئی قسم کے ضرروں سے بچا ہوا ہوتا ہے جن میں وہ مبتلا ہوسکتا تھا اگر وہ اکیلا کسی جنگل میں ہوتا۔مگر اس کے باوجود وہ اپنی حماقت سے کہ دیتا ہے کہ مجھے کسی نے کیا دیا۔وہ اگر زمیندار ہے اور کھیت میں ہل چلاتا ہے تو اس کا ہل جب خراب ہوتا ہے وہ اسے لوہار کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے اسے ٹھیک کر دیا جائے۔وہ کسی بڑھئی کو لاتا ہے اور کہتا ہے چار پائی کی چولیں درست کر دے اور وہ پولیس درست کر دیتا ہے۔اگر قوم نہ ہوتی تو لوہار کیوں بیٹھتا، ترکھان کیوں بیٹھتا۔آخر اس اکیلے انسان کی خاطر وہ نہیں بیٹھا۔وہ اس لیے بیٹھا ہے کہ قوم بیٹھی ہے۔اگر قوم نہ ہوتی تو نہ اسے لوہا رملتا، نہ بڑھئی ملتا، نہ کوئی اور پیشہ ور ملتا۔بیشک پیسے اس نے دیئے ہیں مگر لوہار کو اس کی قوم نے بٹھایا ہے۔بڑھئی کو پیسے اُس نے دیئے ہیں مگر بڑھئی کو لائی قوم ہے ورنہ اس اکیلے کے لیے نہ کوئی لوہار آتا، نہ نجار آتا، نہ کوئی اور پیشہ ور آتا۔غرض بے جانے بوجھے ایک دشمن انسان بھی اپنی قوم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔پھر ملک میں ڈاکے پڑتے ہیں، فساد ہوتے ہیں، لڑائیاں ہوتی ہیں تو قوم کی وجہ سے اس کی بھی حفاظت ہوتی چلی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس می کے وجود کو مدنظر رکھا جائے۔غرض قوم کی خدمت اور اس کے لیے قربانی کرنے کا احساس ہمیشہ احسان مندی کے جذبہ سے پیدا ہوتا ہے اور احسان مندی کا جذبہ اگر بچپن سے ہی اُبھارا نہ جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے اور جب یہ جذبہ کمزور ہو جائے تو قومی خدمت کا احساس بھی پیدا نہیں ہوتا۔غرض بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو بچوں کو بچپن میں ہی سکھانی چاہیں اور دنیا کی قو میں اپنے بچوں کو سکھاتی ہیں۔یہ مرض پنجاب میں ہی پایا جاتا ہے کہ ان باتوں کو لغو اور فضول سمجھا جاتا ہے۔ورنہ ہندوستان میں ہی چلے جاؤ، یوپی کے علاقہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی کوئی چیز دو تو وہ فوراً کہیں گے آداب عرض ، شکریہ۔کیونکہ ماں باپ نے انہیں یہ عادت ڈالی ہوئی ہوتی