خطبات محمود (جلد 30) — Page 64
* 1949 64 خطبات محمود سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔لوگ دہر یہ ہوتے ہیں، اسلام کے عملی طور پر منکر ہوتے ہیں مگر بوجہ اس کے کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں نماز پڑھ لیتے ہیں۔بلکہ بعض پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتے ہیں مگر پوچھو تو وہ خدا تعالیٰ کے قائل نہ ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم جس سوسائٹی میں رہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے طریقوں پر عمل کریں۔ہم انگریزوں میں جاتے ہیں تو کوٹ کے پتلون پہنتے ہیں، چھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں مگر ہم انگریز نہیں بن جاتے۔اس لیے کہ جس سوسائٹی میں ہم رہیں ہمارا کام یہی ہے کہ ہم اُس کے دستور اور رسم و رواج کو مد نظر رکھیں۔جس طرح ہم مغربی طریق اختیار کرنے کی وجہ سے یورپین نہیں بن جاتے اسی طرح نماز پڑھ کر ہم مسلمان نہیں بن جاتے۔ہم مغربی طریق اس لیے اختیار کرتے ہیں تا مغربی لوگوں کی انگلیاں ہماری طرف نہ اٹھیں اور ہم مجلس میں انتشار پیدا کرنے کا موجب نہ بن جائیں۔اسی طرح ہم مسلمانوں میں آکر نماز پڑھ لیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی انگلیاں ہماری طرف نہ اٹھیں اور ہم مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا موجب نہ بن جائیں۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ - 1 یعنی کچھ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر اُن کی نماز ثواب کا موجب نہیں ہوتی ، اُن کی نماز رضائے الہی کے حاصل کرنے کا موجب نہیں ہوتی۔اُن کی جی نماز ایک بیکار اور لغو فعل بھی نہیں ہوتی بلکہ اُن کی نماز بے کار اور لغو فعل سے آگے بڑھ کر گناہ کا موجب ہو جاتی اور خدا تعالیٰ کا غضب اُن کی طرف کھینچ لاتی ہے۔پس ایک نماز ایسی بھی ہوتی ہے۔اور ایک نماز ایسی بھی ہوتی ہے جو محض رسمی ہوتی ہے۔انسان اس میں سے ایسے گزر جاتا ہے جیسے الی چکنے گھڑے پر سے پانی گزر جاتا ہے اور اُس پر کوئی اثر نظر نہیں آتا۔اگر کہیں کہیں کوئی قطرہ نظر بھی ای آئے تو وہ گھڑے کی حرکت وغیرہ سے فوراً گر جاتا ہے۔لیکن حقیقی نماز وہ ہوتی ہے جس کے ظاہر کو بھی محفوظ رکھا جائے اور اس کے باطن کو بھی محفوظ رکھا جائے۔یعنی نہ تو جلد جلد پڑھی جائے ، نہ اس کی عبادت کو نظر انداز کیا جائے اور نہ اس میں غیر ضروری حرکات کی جائیں۔طبعی حرکات بھی بعض دفعہ غیر ضروری ہو جاتی ہیں۔مثلاً انسان کا اپنے جسم کو کھجلانا ایک طبعی چیز ہے۔عام حالات میں ہم اس پر اعتراض نہیں کرتے۔ہم شدید حالات میں نماز میں کھجلانے پر بھی اعتراض نہیں کرتے۔بعض دفعہ کھجلی اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس سے نماز خراب ہو نے لگتی ہے اور انسان اپنا جسم کھجلانے پر