خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 65

$ 1949 65 خطبات محمود مجبور ہو جاتا ہے۔مگر جن حالات میں نماز کے باہر کھجلانا جائز ہوگا نماز میں انہی حالات میں جسم کھجلانا جائز نہیں ہوگا۔نماز کے باہر معمولی کھجلی دور کرنے کے لیے بھی کھجا نا جائز ہے لیکن نماز میں سوائے ایسی کھجلی کے جو شمرید ہو اور جس کا ازالہ اگر نہ کیا جائے تو نماز کی طرف سے توجہ ہٹ جانے کا احتمال ہو عام حالات میں بھجلانا جائز نہیں۔یہی حال جسم کی دوسری حرکات کا ہے۔مثلاً میں اس وقت خطبہ کے لیے کھڑا ہوں خطبہ میں ایک لات پر زور دے کر کھڑا ہونا جائز ہے لیکن نماز میں یہ جائز نہیں۔نماز میں دونوں لاتوں کو سیدھا رکھنا ضروری ہوگا۔اگر میں دونوں لاتوں کو سیدھا نہیں رکھ سکتا تو شریعت کہے گی کہ بیٹھ کر نماز پڑھو مگر شریعت یہ نہیں کہے گی کہ کھڑے تو ہو جاؤ مگر جس کی طرح چاہولا تیں رکھ لو۔نماز میں دونوں لاتوں کو سیدھا رکھنا اور ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑا رہنا ضروری ہوتا ہے سوائے جسمانی بناوٹ کی خرابی کے۔اسی طرح باتیں کرتے ہوئے یا تقریر کرتے وقت ایک ٹانگ آگے بڑھا لینے اور دوسری ٹانگ کو پیچھے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔اگر کوئی ہے شخص اپنی ٹانگوں کو اس طرح رکھے تو یہ جائز ہوگا۔اس سے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، امت محمدیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، ہماری روحانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن نماز میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ چیز نماز کے قواعد کے خلاف ہے۔اگر ہم ان قواعد کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو نماز کے لیے مقرر کیے گئے ہیں تو ہمارا فعل ناقص اور نا تمام ہو جائے گا۔غرض ہر ملکے و ہر رسے“ جس طرح ہر ملک کے ساتھ بعض مخصوص رسوم کا تعلق ہوتا ہے اور ہر فعل کے متعلق بعض قواعد مقرر وو ہوتے ہیں اسی طرح نماز کے بھی کچھ قواعد ہیں جن کوملحوظ رکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہوتا ہے۔میں نے نماز کی طرف اپنی جماعت کو بارہا توجہ دلائی ہے اور چونکہ اپنے اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ انہیں بار بار توجہ دلائی جائے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ماں باپ کا کام ہے۔اگر وہ اپنی اولاد کو ان امور کی طرف توجہ دلاتے رہیں اور بار بار ان کے کانوں میں یہ باتیں ڈالیں، اگر وہ سات آٹھ سال کی عمر سے بچوں کو یہ باتیں بتاتے رہیں تو تین چار سال کے بعد جب وہ دس بارہ سال کے ہوں گے اور شریعت کے اس حکم کی پابندی ان کے لیے ضروری ہوگی وہ اس کی قابل ہوجائیں گے کہ صحیح طور پر اپنے فرائض کو ادا کریں اور ایسی حرکات نہ کریں جو اسلامی آداب کے خلاف ہوں۔