خطبات محمود (جلد 30) — Page 430
* 1949 430 44 خطبات محمود احمدیت کی ترقی بغیر قربانی اور بغیر وقف کے نہیں ہوسکتی حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اپنے اندر ایک نشان رکھتی ہے (فرمودہ 30 دسمبر 1949ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں ایک اور مضمون کے متعلق خطبہ پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن جب میں خطبہ پڑھنے کے لیے مسجد میں آنے لگا تو مجھے ایک تار ملی۔وہ تار مجھے مل تو ایک دو گھنٹہ پہلے گئی تھی لیکن پڑھی نہیں جاتی تھی۔بعد میں دفتر والوں نے مل کر اسے پڑھا۔اس تار سے ایک افسوس ناک خبر ملی ہے جس کی وجہ سے میں نے خطبہ کے موضوع کو بدل دیا۔اب میں اسی بارہ میں خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں۔یہ تار جس کا میں نے ذکر کیا ہے ماریشس سے آئی ہے اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے وہاں کے مبلغ حافظ جمال احمد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اچانک بیماری آئی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی بیماری کی کوئی خبر نہیں آئی۔حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اپنے اندر ایک نشان رکھتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب وہ ماریشس بھیجے گئے تو اُس وقت جماعت کی مالی حالت کی بہت کمزور تھی۔اتنی کمزور کہ ہم کسی مبلغ کی آمد و رفت کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔میں نے تحریک کی کہ کوئی دوست اس ملک میں جائیں۔اس پر حافظ صاحب مرحوم نے خود اپنے آپ کو پیش کیا تھی