خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 431

$ 1949 431 خطبات محمود یا کسی اور دوست نے تحریر کیا کہ حافظ جمال احمد صاحب کو وہاں بھیج دیا جائے۔چونکہ پہلے وہاں صوفی غلام محمد صاحب مبلغ تھے اور وہ حافظ تھے اس لیے احباب جماعت نے وہاں ایک حافظ کے جانے کو ہی پسند کیا۔گو صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے تھے اور اُن کی عربی کی لیاقت بھی بہت زیادہ تھی اور حافظ جمال احمد صاحب غالباً مولوی فاضل نہیں تھے ہاں! عربی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی اور قرآن کریم حفظ کیا ہوا تھا لیکن بہر حال انہیں صوفی صاحب کی جگہ مبلغ بنا کر ماریشس بھیج دیا گیا۔حافظ صاحب مرحوم کی شادی مولوی فتح الدین صاحب کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی جنہوں نے شروع شروع میں پنجابی میں کا من 1 لکھے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی سے پہلے کے تعلق رکھنے والے دوستوں میں سے تھے۔ان کے سسرال کے حالات کچھ ایسے تھے کہ ان کے بعد ان کے بیوی بچوں کا انتظام مشکل تھا اس لیے انہوں نے مجھے تحریک کی کہ انہیں بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔چونکہ اُس وقت سلسلہ کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ پیسے پیسے کا خرچ بو جھل معلوم ہوتا تھا اور اُدھر حافظ صاحب مرحوم کی حالت ایسی تھی کہ انہیں اپنے بیوی بچے اپنے پیچھے رکھنے مشکل تھے میں نے کہا کہ میں آپ کو بیوی بچے ساتھ لے جانے کی اجازت دیتا ہوں مگر اس شرط پر کہ آپ کو ساری عمر کے لیے وہاں رہنا ہو گا۔اُس وقت کے حالات کے ماتحت انہوں نے یہ بات مان لی اور سلسلہ اور اُن کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ایک لمبے عرصہ کے بعد جب ان کے لڑکے جوان ہوئے اور لڑکی بھی جوان ہوئی تو انہوں نے مجھے تحریک کی کہ میرے بچے جوان ہو گئے جی ہیں اس لیے ان کی شادی کا سوال در پیش ہے آپ مجھے واپس آنے کی اجازت دیں تا بچوں کی شادی کا ای انتظام کر سکوں۔لیکن میری طبیعت پر چونکہ یہ اثر تھا کہ وہ یہ عہد کر کے وہاں گئے تھے کہ ہمیشہ وہیں رہیں گے اس لیے میں نے انہیں لکھا کہ آپ کو اپنے عہد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔انہوں نے کی جواب دیا کہ مجھے اپنا عہد یاد ہے لیکن میری لڑکی جوان ہو گئی تھی جس کی وجہ سے مجھے واپس آنے کی کی ضرورت پیش آئی۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں یہیں رہوں تو میں اپنی درخواست واپس لے لیتا ہی ہوں۔بعد میں محکمہ کی طرف سے بھی کئی دفعہ تحریک کی گئی کہ انہیں واپس بلا لیا جائے لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ انہوں نے عہد کیا ہوا ہے اور اُس عہد کے مطابق انہیں وہیں کا ہو رہنا چاہیے۔ابھی کوئی دو ماہ کی ہوئے میں نے سمجھا کہ چونکہ اب حالات بدل چکے ہیں اور اب نیا مرکز بنا ہے اس لیے ان کو بھی کی