خطبات محمود (جلد 30) — Page 336
* 1949 336 خطبات محمود ہمارے سامنے ذلیل اور شرمندہ ہوں گے۔جب خدا تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوں گے، جب سلسلہ کی عظمت دنیا پر روشن ہو گی اُس وقت وہی منافق جو آج ہماری مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ذلیل ہوکر ہمارے سامنے آئیں گے اور ہماری جوتیاں چاٹنے پر مجبور ہوں گے۔مگر اُس وقت ان کو وہ مقام میسر نہیں آئے گا جو آج قربانی کرنے والوں کو میسر آ سکتا ہے۔یہ لوگ ہمیشہ نیچے رہیں گے اور وہ لوگ جو دین پر ثابت قدم رہیں گے اونچے رکھے جائیں گے۔قرآن کریم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ سابقون کا مقابلہ بعد میں آنے والے لوگ نہیں کر سکتے۔اس میں جماعتوں کے قیام اور ان کی ترقی کا ایک زبر دست راز بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ جماعتیں جو ی مجرموں کو بھول جاتی ہیں، وہ جماعتیں جو غداروں کو بھول جاتی ہیں، وہ جماعتیں جو شرارت کرنے کی والے عصر کو بھول جاتی ہیں وہ دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں۔وہ لوگ جنہوں نے جرم کیے ، جنہوں نے کی مخالفتیں کیں، جنہوں نے بکواسیں کیں ، شرارتیں کیں اور پھر اپنے گناہوں سے تائب ہو گئے اُن کو کبھی اُس رتبہ پر نہیں پہنچایا جا سکتا جس رتبہ پر وہ شرارت کرنے سے پہلے قائم تھے۔اگر بکواس کرنے اور ای سلسلہ میں تفرقہ پیدا کرنے کے بعد بھی کوئی شخص اُس مقام پر پہنچ جائے جس مقام پر وہ پہلے کھڑا تھا تو ہے اخلاص اور ایمان پر قائم رہنے کی جدو جہد کمزور ہو جاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کیا ہوا اگر چند دن بکواس بھی کر لی بعد میں تو ہمیں پھر یہی مقام میسر آئے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو۔آپ کے ہاں مرتدین اور معترضین کو کبھی کسی اعلیٰ مقام پر نہیں لایا جاتا تھا بلکہ ان میں سے بعض کو وطن کو ٹنے کی بھی اجازت نہ دی جاتی تھی۔ایک مرتد کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جہاں ہوا سے قتل کر دیا جائے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسے تو بہ نصیب ہوئی اور وہ بھی اِس طرح کہ ایک دفعہ جب حضرت ابو بکر کے لڑکے حضرت عبدالرحمان پر حملہ ہو رہا تھا اس نے دشمن کے لشکر میں سے نکل کر ان کو بچایا۔وہ اُس وقت عیسائی لشکر میں شامل تھا تی اور انہی کی طرف سے لڑ رہا تھا۔جب حضرت ابو بکر کے بیٹے پر حملہ ہوا تو اُس کی اسلامی رگ جوش میں آگئی اور اُس نے آگے بڑھ کر حملہ کرنے والے کو قتل کر دیا۔اس پر اُسے معاف تو کر دیا گیا مگر پھر وہ ایک عام مسلمان کی حیثیت میں ہی رہا۔اسے کوئی اعلیٰ مقام یا عہدہ نہیں دیا گیا۔ہماری جماعت میں یہ نقص ہے کہ جب کوئی مرتد تائب ہوتا ہے تو بیسیوں مخلص آ آ کر