خطبات محمود (جلد 30) — Page 318
$ 1949 318 خطبات محمود جائیں گی۔پھر یہ بھی نہیں کہ اُن کے بیوی بچے نہیں تھے۔آجکل لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر ہم دین کی خدمت کے لیے جائیں تو ہمارے بیوی بچوں کو کون کھلائے گا۔سوال یہ ہے کہ آیا صحابہ کے بیوی کی بچے تھے یا نہیں؟ اگر تھے تو جنگ پر جانے کے بعد انہیں کون کھیلا تا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی ترقی قربانی سے وابستہ ہے۔روپیہ ایک عارضی چیز ہے جیسے تحریک جدید کے ابتدا میں ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ روپیہ ایک ضمنی چیز ہوگی۔تحریک جدید کی اصل بنیاد وقف زندگی پر ہوگی مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب واقفین میں سے ای ایک حصہ کا رجحان روپیہ کی طرف ہو رہا ہے اور وہ یہ سوال کر دیا کرتے ہیں کہ ہم کھائیں گے کہاں سے؟ حالانکہ وقف کی ابتدائی شرطوں میں ہی صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ زندگی وقف کرنے والا ہر قسم کی قربانی سے کام لے گا اور وہ کسی قسم کے مطالبہ کا حقدار نہیں ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خدا کے لیے قربانی کرتا ہے خدا خود اُس کا مددگار ہو جاتا ہے۔آخر ہمارے وقف کے دوہی نتیجے ہو سکتے ہیں۔یا تو ہمیں ملے یا نہ ملے۔میں ”ہمارے“ کا لفظ اس لیے کہتا ہوں کہ میں بھی جوانی سے دین کی خدمت کے لیے وقف ہوں اور میں جب دین کی خدمت کے لیے آیا تھا اُس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے بیا خدا تعالیٰ کے نمائندوں سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ میں اور میرے بیوی بچے کہاں سے کھائیں گے۔مگر ب تم میں سے کئی لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ میرے پاس روپیہ بھی ہے اور میں کھاتا پیتا بھی بافراغت ہوں۔مگر سوال یہ ہے کہ میں نے تو کوئی شرط نہیں کی تھی۔جو کچھ خدا نے مجھے دیا یہ اُس کا احسان ہے۔میر احق نہیں کہ میں اُس کی کسی نعمت کو ر ڈ کروں۔لیکن جب میں آیا تھا اُس وقت میں نے یہ نہیں کہا تھا تھا کہ پہلے میرے اور میرے بیوی بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت پیدا کی جائے اس کے بعد میں اپنے لیے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کروں گا۔یہ خدا کا سلوک ہے جس میں کسی بندے کا کوئی اختیار نہیں۔اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی تھے جنہوں نے روٹی کھانی ہوتی تو وہ کہتے فلاں مرید کو کہہ دو کہ وہ مجھے روٹی بھجوا دے۔اور اُس کے نبیوں میں حضرت سلیمان بھی تھے جن کے دائیں بائیں دولت گر رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات میں داؤد کہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کے اس مختلف سلوک کی وجہ کیا ہے۔یہ ایک راز ہے جو اس نے اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔شاید کوئی مو