خطبات محمود (جلد 30) — Page 313
* 1949 313 خطبات محمود مہمان خانہ جو قادیان میں ہوا کرتا تھا پہلے کچا ہی ہوا کرتا تھا۔میر محمد اسحاق صاحب چونکہ کام کرنا جانتے تھے اس لیے آہستہ آہستہ انہوں نے اسے پختہ بنانا شروع کر دیا۔ہر دفعہ جب کوئی مالدار مہمان آکر ٹھہرتا تو وہ اس کی خوب خاطر تواضع کرتے اور پھر کہتے کہ ہمارا مہمان خانہ کچا ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے کی مال عطا فرمایا ہے آپ اس کی ایک دیوار پختہ بنا دیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو ثواب عطا فرمائے گا۔اس طرح کبھی کوئی حصہ پکا بنوا لیتے اور کبھی کوئی۔یہاں تک کہ سارا مہمان خانہ پختہ عمارت کا تعمیر ہو گیا۔اگر ان کام کرنے کی روح پیدا ہو جائے تو انسان خود بخود کئی راستے نکال لیتا ہے۔میں نے سوچا ہے کہ بغیر اس کے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کا یہاں ہائی اسکول قائم ہو ہم اپنی آئندہ نسلوں کو صحیح طور پر احمدیت کے رنگ میں رنگین نہیں کر سکتے۔اس غرض کے لیے بعض عارضی انتظامات بھی ہو سکتے ہیں جیسے میں نے کہا تھا کہ سیکرٹری تنخواہ دار رکھو، دفتری انتظامات کو بہتر بناؤ، تین چار دیہاتی مبلغ اور منگوا لو جو تحصیل چندہ کے کام میں بھی مدد دیں اور جماعت کی تربیت بھی کریں۔مگر یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔مستقل چیز یہی ہے کہ آئندہ پو دکی احمدیت کے ماحول میں پرورش کی جائے جس کا بہترین طریق یہی ہے کہ اپنے ہائی اسکول قائم کیے جائیں لڑکوں کے لیے الگ اور لڑکیوں کے کی لیے الگ۔اس سے نہ صرف ہماری آئندہ نسل کو ایک اچھا ماحول میسر آ جائے گا بلکہ ہیں پچیس فیصدی غیر احمدی بھی ہمارے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آجایا کریں گے جن میں سے تھیں چالیس فیصدی ضرور احمدی ہو جائیں گے۔بلکہ میرے نزدیک تو لاہور جیسے شہر میں ایک دوسرے کالج می کی بھی ضرورت ہے۔ہمارا کالج اگر ربوہ چلا جائے تو ضرورت ہوگی کہ اس جگہ ہمارا ایک اور کالج ہوتی کیونکہ وہ نوجوان جو ان کالجوں میں تعلیم حاصل کریں گے وہی ہوں گے جنہوں نے کل چوٹی کے عہدوں پر کام کرنا ہے۔اگر وہ ہمارے کالج میں پڑھ کر اعلی عہدوں پر فائز ہوں پھر تو ہمارے لیے مختلف مواقع پر اُن کے ذریعہ بہت سی سہولتیں میسر آسکیں گی۔قادیان میں جب ہمارا تعلیم الاسلام اسکول تھا تو ہے اُس میں بھی کئی غیر احمدی تعلیم پاتے تھے جنہوں نے بعد میں بعض مواقع پر ہماری امداد بھی کی ہے۔سندھ میں سلسلہ کی ایک زمین تھی جو کسی سے اجارہ پر لی گئی تھی۔بعض نے اس کے متعلق شرارتیں شروع کر دیں اور ضمانت کا سوال پیدا ہو گیا۔اُس وقت ایک افسر جو یوں تو دینی لحاظ سے سلسلہ کا مخالف تھا مگر اُس نے قادیان میں رہ کر تعلیم حاصل کی تھی۔اس کو ہمارے احمدی دوست جا کر ملے اور حقیقت بیان کی