خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 312

* 1949 312 خطبات محمود ان کی مجلس میں آ بیٹھیں یا ان کے لنگوٹے یارانہیں مل جائیں تو وہ کئی کئی گھنٹے اُن سے لغو باتیں کرنے کی میں ضائع کر دیں گے اور انہیں کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ وہ اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔اگر وہ پنے وقت کو بجائے گپیوں میں ضائع کرنے کے کسی ایسے افسر سے ملنے چلے جائیں جو یہ کام کر سکتا ہوتو ای سلسلہ کو بھی نفع ہو اور ان کی عاقبت بھی سنور جائے اور آئندہ نسل بھی درست ہو جائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے نزدیک جماعت لاہور میں کم سے کم سات آٹھ آدمی ایسے ضرور ہیں جن کے لوگ محتاج ہے ہیں اور جن کی طرف کسی نہ کسی وجہ سے لوگ توجہ کرتے ہیں۔کسی کی طرف پیشہ کے لحاظ سے، کسی کی طرف خاندانی تعلق کے لحاظ سے، کسی کی طرف اس کے رسوخ یا رشتہ داری کے لحاظ سے اور اس طرح وہ ان کی نگاہ التفات کے بھوکے ہوتے ہیں۔وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائدادوں میں بہت سی بلڈنکس باقی ہیں جنہیں وہ اپنے لیے حاصل کر سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ اسکول کے لیے کوئی اعلیٰ درجہ کی بلڈنگ ہو۔معمولی بلڈنگ میں بھی اسکول قائم کیا جاسکتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تھوڑا بہت روپیہ خرچ کر کے اسے بڑھایا جاسکتا ہے۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ محکمہ تعلیم سے کچا اسکول بنانے کی اجازت لے لی جائے۔میں نے انہیں مسجد کے لیے زمین کی تحریک کی تھی تو اُس وقت ایک ایجنٹ نے مجھے یقین دلایا تھا کہ زمین مل سکتی ہے۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ گورنمنٹ ہندوؤں کی زمینوں کا سودا نہیں کرنے دیتی اس لیے اسکول کے لیے یہ زمین نہیں خریدی جاسکی۔لیکن انجمن کی کچھ زمین یہاں ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر محکمہ تعلیم سے تعلق پیدا کر کے اسکول کے لیے کچے مکان بنانے کی اجازت لے لی جائے تو دس بارہ ہزار روپیہ میں آسانی سے اسکول بن سه ن سکتا ہے صرف اُن سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر وہ اجازت دے دیں تو فوراً بلڈنگ بنائی جاسکتی ہے اور جہاں ان کی مرضی ہو وہاں وہ اس قسم کی اجازت دے بھی دیتے ہیں۔گزشتہ دنوں کی جب ہمارے چنیوٹ کے تعلیم الاسلام ہائی اسکول کا انسپکٹر نے معائنہ کیا تو وہ یہ دیکھ کر کہ کس طرح مہاجر ہوکر انہوں نے اسکول کو ترقی دی ہے اس قدر متاثر ہوا کہ اُس نے کہا تم اپنے اسکول کا نقشہ بنا کر لے آؤ میں تمہیں کچے مکان بنانے کی اجازت دے دوں گا اور کچا اسکول دس بارہ ہزار روپیہ میں بلکہ پانچ سات ہزار روپیہ میں بھی بن جاتا ہے۔بعد میں رفتہ رفتہ اسے پختہ بنایا جا سکتا ہے۔ہمارا