خطبات محمود (جلد 30) — Page 284
* 1949 284 خطبات محمود الصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا بچہ بچہ ہی ہے خواہ اس نے بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جانا ہو۔بہر حال لڑ کے بعض دفعہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جن سے ماں باپ دھوکا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ایک نوجوان جو آجکل بڑا مخلص اور فدائی احمدی ہے اُسے طالب علمی کے زمانہ میں والدین نے قادیان میں داخل کروایا۔یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔ایک دن میں حضرت خلیفہ اول کے پاس گیا تو ابھی میں وہاں بیٹھا ہی تھا کہ اوپر سے ڈاک آ گئی اور آپ نے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ڈاک پڑھتے پڑھتے آپ نے ایک خط نکالا اور اسے پڑھ کر آپ ہنسے۔اُس وقت ایک طرف میں بیٹھا تھا اور دوسری طرف وہ لڑکا بیٹھا تھا۔آپ نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور فرمایا ای میاں ! تم اس لڑکے کو جانتے ہو؟ مجھے یاد نہیں میں نے اُس وقت کیا جواب دیا۔( اُس لڑکے کے والد بہت پرانے صحابی تھے اور انہوں نے پہلے دن لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔بہر حال اس گفتگو کے بعد حضرت خلیفہ اول اُس لڑکے کی طرف مخاطب ہوئے اور ہنس کر فرمانے لگے میاں! آج تم میرے پاس کس طرح پہنچ گئے ہو؟ اس نے کہا حضور ! جس طرح میں پہلے حاضر ہوا کرتا تھا اُسی طرح آج بھی حاضر ہو گیا ہوں۔آپ فرمانے لگے تم یہ بتاؤ کہ تم پنجرے میں سے کس طرح نکلے ہو؟ اِس پر اُس کا رنگ زرد ہو گیا اور شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔پھر آپ نے وہ خط مجھے پڑھنے کے لیے دے دیا۔میں نے پڑھا تو اُس میں لڑکے کی نانی الی نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا تھا کہ میرے نواسے نے قادیان سے مجھے لکھا ہے کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں مجھے انہوں نے ایک پنجرے میں ڈال کر لٹکا رکھا ہے۔صبح شام سوکھی روٹی اور ذرا سا پانی اس کی پنجرے میں رکھ دیتے ہیں جس پر میں گزارا کرتا ہوں۔لڑکے ادھر ادھر سے آتے اور مجھے دیکھ کر ہر وقت مذاق کرتے رہتے ہیں۔میں آپ کو یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ مجھے دیکھنا چاہتی ہیں تو خدا کے لیے آپ مجھے جلدی بلوا لیں اور اس قید سے نجات دلوائیں۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے اس سے فرمایا کہ میاں ! تم آج پنجرے میں سے کس طرح باہر آگئے ہو؟ اسی طرح میرے ساتھ ایک واقعہ ہوا۔ایک دفعہ ایک شخص نے میرے پاس شکایت کی کہ میرے لڑکے کو استاد نے عربی میں فیل کر دیا ہے حالانکہ وہ اس مضمون میں بہت ہوشیار تھا اور اس کی جہ یہ ہے کہ استاد نے میرے لڑکے سے کوئی چیز لانے کے لیے کہا تھا چونکہ اس نے ایسا نہ کیا اس لیے