خطبات محمود (جلد 30) — Page 265
$ 1949 265 خطبات محمود آپ کے حواری آپ سے محبت ضرور کرتے تھے۔بعد میں پطرس بھی روما میں صلیب پر لٹکایا گیا اور اس کی نے بڑی دلیری کے ساتھ موت کو قبول کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی محبت اور اطاعت سے انکار نہیں کیا لیکن جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا اُس وقت اس کا ایمان پختہ نہیں تھا اُس وقت وہ ای دو چار تھپڑوں سے ڈر گیا تھا۔مگر بعد میں اس نے صلیب کو بھی نہایت خوشی سے قبول کیا۔بہر حال یہ ایک نظارہ تھا اُس محبت کا جو مسیح علیہ السلام سے آپ کی قوم کو تھی۔اب آپ کی قوم کے مقابلہ میں ہم ان غلاموں کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور پھر وہیں کے ہور ہے۔بلال جو حبشی غلام تھا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو محبت تھی ہم دیکھتے ہیں اُس کا بلال پر کیا اثر تھا۔بعض لوگوں کو ظاہری طور پر اپنے محبوب سے گہری محبت ہوتی ہے لیکن حقیقتاً ان کی محبت ایک دائرہ کے اندر محدود ہوتی ہے۔ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے جس کے حبشی غلام ہونے کی وجہ سے قریش ہی نہیں بلکہ سارے عرب نفرت کا اظہار کرتے تھے جس محبت کا اظہار کیا آیا وہ ایک عام رواداری کی روح کی وجہ سے تھا یا حقیقی محبت کا مظاہرہ تھا؟ اس کا جائزہ بلال ہی لے سکتے ہیں ہم نہیں لے سکتے۔اس واقعہ پر تیرہ سو سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہے ہم اس کا کیا جائزہ لے سکتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ بلال نے آپ کی محبت کے اظہار کو کیا سمجھا۔یہاں یہ سوال نہیں کہ میں نے کیا سمجھا، یہاں یہ سوال نہیں کہ ہم سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھا، یہاں یہ سوال نہیں کہ اس سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھا یہاں یہ سوال بھی نہیں کہ خود صحابہ نے کیا سمجھا بلکہ سوال یہ ہے کہ یہی چھوٹا سا فقرہ کہ تم بلال کے انہد“ کہنے پر بنتے ہو حالانکہ اس کی اذان سن کر خدا تعالیٰ بھی عرش پر خوش ہوتا ہے۔وہ تمہارے اَشْهَدُ سے اس کے اسھد کی زیادہ قدر کرتا ہے۔یہ صرف دلجوئی اور دافع الوقتی کے لیے تھا یا ای گہری محبت کی بناء پر تھا ؟ دیکھنا یہ ہے کہ اس فقرہ سے بلال نے کیا سمجھا۔بلال نے اس فقرہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے دل میں خواہ میں غیر قوم کا ہوں اور ایسی قوم کا ہوں جو انسانیت کے دائرہ سے باہر بھی جاتی ہے اور غلام بنائی جاتی ہے محبت اور عشق ہے۔ہم اس واقعہ سے کچھ عرصہ پیچھے چلے جاتے ہیں۔یہی شخص جو کہتا ہے مَمَاتِي الله لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میری موت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العلمین ہے فوت ہو جاتا ہے، نئی حکومتیں بن جاتی ہیں ، نئے افراد آگے آجاتے ہیں اور نئے تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں۔بعض صحار