خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 221

* 1949 221 خطبات محمود معلوم ہوئی۔وہ سمجھتے تھے کہ قربانی تو مکے میں ہوئی تھی اور پھر عمرہ یا حج کے بعد ہوئی تھی اور جب ہم مکہ گئے نہیں، خانہ کعبہ کا طواف کیا نہیں یا ہم نے عمرہ یا حج کیا نہیں تو پھر یہ قربانی کیسی ؟ اسی لیے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قربانیاں یہیں ذبح کر دو تو انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔آپ کی عادت تھی کہ جب کسی بات پر آپ ناراض ہو جاتے۔طبیعت میں جوش آجاتا تو اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تمہارے بھائیوں یا تمہاری قوم نے ایسا کیا ہے۔اُس وقت اپنی طرف قوم کی نسبت نہ فرماتے۔غرض آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی سے فرمایا آج تیری قوم کو میں نے یہ حکم دیا تھا کہ قربانیاں یہیں ذبح کر دو مگر وہ اپنی جگہوں سے اُٹھے نہیں اور ان پر میری آواز کا کچھ اثر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اتنی قربانیاں کرنے کے بعد یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ حکم دیں اور صحابہ جان بوجھ کر اس کی نافرمانی کریں۔انہوں نے محبت کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا بلکہ صدمہ کا ان پر اس قدراثر ہے کہ وہ اپنے حواس میں نہیں ہیں۔وہ یہ امیدیں لے کر آئے تھے کہ ہم دس بارہ سال کے بعد مکہ جائیں گے عمرہ یا حج کریں گے اور اپنے دلوں کو خوش کریں گے۔انہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ اُن کے راستہ میں کوئی روک پیدا ہو جائے گی۔آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کر لی جس کی وجہ سے انہیں صدمہ پہنچا۔پس آپ کے حکم پر اُن کا قربانی کرنے کے لیے تیار نہ ہونا ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس صدمہ کے اثر کی وجہ سے ہے۔آپ سیدھے جا کر اپنی قربانی ذبح کی کرنا شروع کر دیجیے۔6 صحابہ کو کچھ نہ کہیں۔پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا! آپ نے نیزہ ہاتھ میں لے لیا اور صحابہ کی طرف کوئی توجہ کیے بغیر سید ھے اپنی قربانی کی طرف گئے۔آپ کا اونٹ کو نیزہ مارنا تھا کہ صحابہ پاگلوں کی طرح اپنی جگہوں سے اٹھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔کچھ صحابہ آپ کی مدد کرنے لگ گئے اور کچھ اپنی قربانیاں ذبح کرنے لگ گئے۔اس وقت صحابہ میں اس قدر جوش پایا جاتا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے تلوار میں چھینتے تھے اور ی ان میں سے ہر ایک کی یہ کوشش تھی کہ میں دوسرے سے پہلے قربانی ذبح کر لوں اور تھوڑی دیر میں انہوں نے سب قربانیاں ذبح کر دیں۔7 یہ قربانی بظاہر بے معنی تھی ، صحابہ مکہ میں داخل نہیں ہوئے ، انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا تھا ، انہوں نے عمرہ یا حج نہیں کیا تھا مگر پھر بھی ان۔ނ