خطبات محمود (جلد 30) — Page 222
$ 1949 222 خطبات محمود قربانیاں کروائی گئیں کیونکہ خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ کسی جگہ کو بالذات تقدیس حاصل نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ جس جگہ کو مقدم قرار دے دیتا ہے وہی مقدس بن جاتی ہے۔ایک اردو شاعر نے کہا ہے۔جدھر ملے وہ قبلہ اُدھر طواف کریں یعنی ہم تو اپنے معشوق کے دیوانے ہیں اور ہمارا قبلہ ہمارا معشوق ہے۔جہاں وہ ملے ہم طواف کر لیں گے۔گویا اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے واقعہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ بیشک خانہ کعبہ ایک مقدس ترین مقام ہے جس کا طواف کیا جاتا ہے مگر اس کو تمہارے خدا نے ہی مقدس بنایا ہے۔اگر لوگ تمہیں وہاں نہیں جانے دیتے، تمہیں رستہ میں ہی روک لیتے ہیں تو جہاں وہ روک دیتے ہیں وہیں قربانی کر دو۔کیونکہ وہی جگہ خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔غرض بظاہر یہ ایک بے مصرف قربانی تھی، ایک نسنگہ تھی جو صحابہ نے بیسیوں دفعہ بعد میں کی لیکن اپنے اندر ایسی شان رکھتی تھی کہ دوسری قربانیاں اس کے سامنے بیچ ہیں۔مکہ فتح ہوا اور بعض صحابہ نے ہمیں ہیں، تمھیں تمہیں حج کیسے اور قربانیاں بھی کیں لیکن روحانیت سے دیکھنے والی آنکھ جانتی ہے کہ وہ قربانیاں صلح حدیبیہ والی قربانی کے سامنے کچھ قیمت کی نہیں رکھتیں۔کیونکہ وہاں خدا تعالیٰ خود اُتر آیا تھا اور خدا تعالیٰ کے سامنے جو قربانی کی جائے اُس کے سامنے دوسری قربانیاں حیثیت ہی کیا رکھتی ہیں۔وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خدا تعالیٰ خود جلوہ افروز ہوا اور اس نے خود جلوہ فرما کر مشرکین مکہ کو بتا دیا کہ تم کہتے ہو خانہ کعبہ ہمارا ہے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو وہاں داخل نہیں ہونے دیں گے۔سو ہم عارضی طور پر اسے تمہارا ہی سمجھ لیتے ہیں اور اپنا گھر اس جگہ کو قرار دے دیتے ہیں جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اُترے ہوئے ہیں۔غرض بظاہر یہ ایک بے حقیقت قربانی تھی لیکن کتنا فلسفہ ہے جو اس میں پایا جاتا ہے۔پس قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت اگر ایک طرف جسم اور دل اور دماغ سے تعلق رکھنے والی قربانیاں پیش کرتی ہے تو دوسری طرف وہ نَسِيكَة یعنی