خطبات محمود (جلد 30) — Page 211
* 1949 211 خطبات محمود کی حفاظت کریں گے اور اس کی برکتیں اس سے وابستہ رہیں گی اور یقیناً اس مقام سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نواب صاحب مرحوم کا نام بھی قیامت تک قائم رہے گا۔مجھے چودھری مشتاق احمد صاحب کا انگلستان سے جو خط آیا ہے اُس میں انہوں نے میری 1944 ء کی ایک خواب لکھی ہے جو یہ ہے کہ میں نے رویا میں اُن کی بیوی کلثوم کو دیکھا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ بابا جی اتنے بیمار ہوئے لیکن ہمیں کسی نے اطلاع تک نہیں دی۔چودھری صاحب لکھتے ہیں کہ بالکل ایسا ہی واقعہ اس وقت ہوا ہے۔ہمیں اُن کی بیماری کی اطلاع تک نہیں ملی اور اب وفات کی خبر بھی صرف آپ کی طرف سے ملی ہے۔خاندان کے کسی اور فرد کی طرف سے نہیں ملی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے رشتہ داروں میں سے بھی کسی کو اُن کی بیماری کی خبر نہیں ملی۔چودھری محمد شریف صاحب وکیل نے مجھے لکھا کہ وفات کی دن شام کے وقت ڈاکٹر آیا اور اُس نے کہا کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں۔چودھری عزیز احمد صاحب جو سب حج ہیں مجھے اطلاع کا خط لکھنے لگے تو والد صاحب نے منع کر دیا اور کہا کیا ضرورت ہے؟ پس خواب میں ہم سے مراد صرف کلثوم ہی نہیں تھی بلکہ ای سارے رشتہ دار مراد تھے۔میں نے یہ ذکر تفصیل کے ساتھ اس لیے کیا ہے کہ تا اس قسم کے لوگوں کے نیک افعال آئندہ کے لیے بطور یادگار رہیں۔ނ 669 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْرِ - 10 عام طور پر اس کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ مُردوں کی بُرائی بیان نہیں کرنی چاہیے۔وہ فوت ہو گئے ہیں اور اُن کا معاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے۔یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن درحقیقت اس میں ایک قومی نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے۔آپ نے اُذْكُرُوا الْمَوْتَى بِالْخَيْرِ ، بالخیر نہیں فرمایا بلکہ آپ نے ”مَوْتَاكُمُ“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔یعنی اپنے مُردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے یہ صحابہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں اَصْحَابِی النُّجُومِ بِاَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ - 11- میرے سب صحابی ستاروں کی مانند ہیں۔تم اُن میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت جاؤ گے۔کیونکہ صحابہ میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی خدمت کا موقع ایسا ملا ہے جس میں و