خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 10

$ 1949 10 خطبات محمود۔ہو جاتا ہے اور ان سے دشمنی ہو جاتی ہے لیکن یہ بغض و کینہ حکومت کرنے والوں تک ہی محدود رہتا ہے مذہب کے بانی کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔لیکن اس کے برخلاف ہسپانیہ والے مرا کو کی حکومت کے بدلہ میں صرف مرا کو والوں سے دشمنی نہیں رکھتے بلکہ ان کی دشمنی اور بغض و کینہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھی منتقل ہو گیا ہے اور صرف منتقل ہی نہیں ہوا بلکہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو دشمنی اور بغض و کینہ پیدا ہوا وہ اُس دشمنی اور بغض و کینہ سے کہیں زیادہ ہے جو ہسپانیہ والوں کو حکومت کرنے والوں سے تھا۔مراکو میں چلے جاؤ وہاں ہے عیسائیوں کو تو گالیاں دینے والے مل جائیں گے، انہیں بُرا بھلا کہنے والے مل جائیں گے مگر حضرت کی عیسی علیہ السلام کو گالیاں دینے والا اور بُرا بھلا کہنے والا کوئی نہیں ملے گا۔لیکن ہسپانیہ والے صرف کی مسلمانوں ہی کے خلاف نہیں تھے بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی شدید دشمن ہو گئے تھے۔انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا تھا کہ وہ جامع مسجد میں چلے جاتے تھے، وہاں خطبہ ہو رہا ہوتا تو وہ کی کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینے لگ جاتے۔اس پر مسلمان جوش میں آ کر اُس عیسائی کو قتل کر دیتے اور سارے ملک میں شور برپا ہو جاتا کہ مسلمان ظالم ہیں۔آخر دیکھنے والی بات ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ ظاہری طور پر تو اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔اگر آپ نے کوئی فائدہ اٹھایا ہے ہوتا، اگر آپ نے بادشاہت حاصل کرنے کی کوشش کی ہوتی یا اپنی نسل کے لیے بادشاہت حاصل کی کرنے کی خواہش کی ہوتی یا آپ کے خاندان نے مال و اسباب لو ٹا ہوتا تب تو دوسرے لوگوں کو ی آپ سے دشمنی ہو سکتی تھی لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔نہ آپ نے اپنے لیے ایسا کیا نہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے ایسا کیا۔ہاں حق اولاد در اولاد کے مطابق آپ کی اولاد میں جو نیک لوگ تھے لوگ اُن کا ادب و احترام کرتے تھے۔وہ ان کا ادب و احترام اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ آپ کی اولاد ہیں بلکہ وہ ان کا ادب و احترام اس لیے کرتے تھے کہ ان میں خود بعض اچھی خوبیاں پائی جاتی ہے تھیں۔ورنہ اسلام نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی کہ سید کو فلاں جگہ دی جائے، فلاں جگہ نہ دی جائے۔غرض کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو آپ نے اپنے لیے یا اپنی نسل کے لیے مخصوص کی ہولیکن آپ کی مخالفت انتہاء تک پہنچی ہوئی ہے۔