خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 118

$ 1949 118 خطبات محمود پڑھی ہوئی ہوتی ہیں اور ہم طاقت نہیں رکھتیں کہ انہیں دین کی طرف مائل کر سکیں۔اگر ہمارا اپنا اے سکول ہو تو پھر نہ صرف وہ خود دین پر قائم رہیں گی بلکہ ہمیں بھی دین سکھائیں گی۔جس گھر میں عورتوں میں دین چلا جاتا ہے اس کے مردوں کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ دین سے غفلت برتیں۔عورت وہ جنس ہے جسے بظاہر محکوم اور غلام کہا جاتا ہے لیکن دراصل وہ حاکم اور مالک ہوتی ہے۔عورت کی عجیب حکومت ہوتی ہے۔روز شور پڑتا ہے کہ عورت غلام ہے، عورت محکوم ہے لیکن آپ اپنے ہمسایوں کو دیکھیں ان میں سے کتنی عورتیں ہیں جو غلام ہیں۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ بعض مرد ایسے بھی نکل آئیں گے جو عورتوں کو جوتیاں مارتے ہیں مگر ان جوتیاں مارنے والوں میں سے بھی اکثر وہ ہوں گے جو دوسرے وقت میں عورتوں کے آگے ناک رگڑ رہے ہوں گے۔علاوہ ازیں بالعموم ایسے لوگ ملیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی انسان قابل قدر ہے، اگر کوئی شخص ایسا ہے جس کا مشورہ قبول کیا جا سکے یا کوئی ایسا انسان ہے جس کی بات مانی جائے تو وہ میری بیوی ہے۔اگر عورتوں میں دینی تعلیم آجائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مردوں کو بھی دین کی طرف کھینچ کہ لے آئیں گی۔ربوہ میں مجھے معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی جماعت نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور اس نے کی یہ کہا ہے کہ یہ کام جماعت کی طاقت سے باہر ہے۔مگر یہ عذر بالکل لغو ہے۔اگر وہ نہ کرنا چاہیں تو ہر کام ان کی طاقت سے باہر ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے ایک لڑکا تھا جو ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔اس کا باپ مر گیا تھا اور ان کے کنبے کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔اس کی ماں نے اسے ایک دن بلا کر کہا بیٹا ! تم کوئی نوکری کر لو۔اس طرح تم کمائی کرو گے تو تم خود بھی کھاؤ گے اور ہمیں بھی ہے رکھلاؤ گے۔انہوں نے کوشش کی اور اس بچے کو نوکری مل گئی اور پانچ روپے ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی۔ماں نے کہا بیٹا ! تم اپنی ساری تنخواہ ہمیں بھیج دیا کرو۔لڑکے نے کہا اگر میں ساری تنخواہ تمہیں بھیج دوں تو کوئی ضرورت پڑنے پر میں کیا کروں گا؟ ماں نے کہا تم انعام پر گزارہ کر لینا۔بیٹے نے کہا مجھے انعام کیسے ملے گا؟ ماں نے کہا سب آقا جب اپنے نوکروں پر خوش ہوتے ہیں تو انہیں انعام دیا کرتے ہیں۔لڑکے نے کہا اگر نہ دے؟ پھر ماں نے کہا اگر خود آقا انعام نہ دے تو جب وہ تمہارے کام پر خوش ہو خود انعام مانگ لیا کرنا۔بچہ نے کہا کہ مجھے کس طرح معلوم ہوگا کہ وہ خوش ہے؟ ماں