خطبات محمود (جلد 30) — Page 48
* 1949 48 خطبات محمود میسر نہ آسکے۔یہاں اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو تو فوری طور پر مہیا ہو سکتی ہے لیکن وہاں ایسا نہیں ہوسکتا۔مثلاً لاہور میں سینکڑوں باورچیوں کی دکانیں ہیں۔اگر کسی وقت کھانا کم ہو جائے اور دو تین سو افراد کو کھانا مہیا کرنے کی ڈیوٹی پر لگا دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں دو تین گھنٹہ میں دس پندرہ ہزار آدمی کا کھانا آسانی سے مہیا ہو سکتا ہے۔لیکن جو مقصد میرے سامنے ہے وہ اس رنگ میں پورا نہیں ہوسکتا۔اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ لاہور کی بجائے ربوہ میں اس جلسہ کا انعقاد کیا جائے۔باقی رہا تکلیف کا سوال سو یہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔اس وادی غیر ذی زرع میں جس میں شور پانی نکلتا ہے، اس وادی غیر ذی زرع میں جس میں چالیس چالیس پچاس پچاس میل تک کھیتی کا کہیں نشان تک نظر نہیں آتا، حضرت ابرہیم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک لوگ بڑے بڑے وسیع جنگلوں میں سے گزرتے ہوئے ایسے جنگلوں میں جو صرف درندوں کے مسکن تھے، ایسے جنگلوں میں سے جہاں بعض دفعہ سو سو میل تک پانی کا ایک قطرہ تک میسر نہیں آتا تھا پیدل یا اونٹنیوں پر سوار اپنے مشکیزوں میں پانی اٹھائے حج کے لیے دوڑتے چلے آتے تھے اور دنوں نہیں، مہینوں نہیں ، سالوں نہیں ، صدیوں نہیں ، ہزاروں سال تک وہ برابر ایسا کرتے چلے گئے۔ہماری جماعت کو ایسا بے ہمت تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگر صرف ایک دفعہ انہیں یہ کام کرنا پڑے تو وہ گھبراہٹ کا اظہار کرنے لگ جائیں۔اس صورت میں بھی تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکو گے کہ عرب کے قبل از اسلام لوگوں نے جو کام دو ہزار چارسو دفعہ کیا وہ ہم نے بھی ایک دفعہ کر لیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کا زمانہ ای بائیس سو سے چوبیس سو سال تک کا ہے اور ہر سال حج ہوتا ہے۔اس لیے اگر صرف حج کو ہی لے لیا جائے عمرہ کو جانے دیا جائے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ چوبیس سو دفعہ یہ کام ان لوگوں نے کیا۔حالانکہ ان لوگوں میں سے اکثر وہ تھے جو زمانہ نبوت سے بہت دور تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ابتدائی چند نسلوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو مستی کرتے ہوئے درمیان میں صرف کفر اور تاریکی اور بے دینی کا زمانہ تھا۔اُس کفر کے زمانہ میں، اُس تاریکی کے زمانہ میں، اس بے دینی اور الحاد کے زمانہ میں جو کام انہوں نے چوبیس سو دفعہ کیا بلکہ اگر عمرے بھی شامل