خطبات محمود (جلد 30) — Page 47
$1949 47 خطبات محمود چاہتے ہیں، ہم تجھ سے سیدھا راستہ طلب کرتے ہیں۔ہم تجھ سے انبیاء والے انعامات مانگتے ہیں۔جب وہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتا ہے تو جس طرح حضرت عبد الرحمن بن عوف اور اُن کے ساتھیوں کا لفظ ”ہم حضرت عائشہ کے ہاں ابن زبیر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا اُسی طرح خدا تعالیٰ کے مخلص اور مقرب اور محبوب بندوں کا ”ہم کمزوروں کی دعائیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا بلکہ قبول کر لیتا ہے کیونکہ اُس نے ہم کو یا بالفاظ دیگر اجتماعی دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔پس نماز باجماعت نے ہم کو یہ سبق دیا ہے کہ متفقہ آواز اور متحدہ دعا اپنے ساتھ بعض زائد برکتیں رکھتی ہے۔یہی سبق ہم کو حج میں بھی ملتا ہے۔عمرہ ایک ویسی ہی عبادت ہے جیسے انفرادی نماز۔لیکن مکہ کا حج ایسا ہے جیسے نماز باجماعت۔اور حج میں جو برکات ہیں وہ عمرہ میں نہیں۔انہیں باتوں کو دیکھتے ہوئے میں نے مناسب سمجھا کہ ہم ربوہ کا افتتاح جلسہ سالانہ سے کی کریں اور خدا تعالیٰ سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے لیے متحدہ طور پر دعائیں کریں۔بے شک ان شامل ہونے والوں میں غافل بھی ہوں گے ، مُست بھی ہوں گے، کمزور بھی ہوں گے لیکن ان کی لوگوں میں پچست بھی ہوں گے، مخلص بھی ہوں گے، سلسلہ کے فدا کار اور جاں نثار بھی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بھی ہوں گے۔ان پستوں اور فدا کاروں کی آواز کے ساتھ جب کمزوروں اور ناقص دعا کرنے والوں کی آواز خدا تعالیٰ کے سامنے "ہم" کہتے ہوئے پہنچے گی تو یقینا اس ”ہم میں جو برکت ہوگی وہ صرف چند افراد کے وہاں جابسنے سے نہیں ہو سکتی۔پس بجائے اس کے کہ ربوہ کا کوئی افتتاح نہ کیا جاتا اور بجائے اس کے کہ چند افراد جو وہاں بس رہے ہیں انہی کا بسنا ربوہ کے افتتاح کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا میں نے چاہا کہ ہمارا اس سال کا سالانہ جلسہ ربوہ میں ہو تا کہ جب ہماری جماعت کے ہزاروں ہزار افراد اس جلسہ میں شامل ہونے کے لیے آئیں تو ہمارا جلسہ بھی ہو جائے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کر ہم متحدہ طور پر دعائیں کریں کہ وہ اس مقام کو احمدیت کے۔بابرکت کرے اور اسے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کا ایک زبردست مرکز بنا دے۔میں جانتا ہوں کہ منتظمین کو تکلیف ہوگی اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ شاید ہمیں پورا سامان بھی وہاں