خطبات محمود (جلد 30) — Page 404
* 1949 404 خطبات محمود کہ جہاں آپ بہت سا وقت فضول باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں وہاں آپ کچھ وقت قرآن کریم کی تلاوت بھی کرلیا کریں۔آخر پندرہ بیس منٹ تک قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں حرج بھی کیا ہے۔ادھر ادھر کی باتوں میں بھی تو آپ کا وقت ضائع ہوتا ہے۔اگر پندرہ بیس منٹ قرآن کریم کی تلاوت پر لگ جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس نصیحت کو سن کر اس امیر نے کہا مولوی صاحب! آپ کو قرآن کریم پڑھتے دیکھ کر دل تو بہت چاہتا ہے کہ قرآن پڑھوں لیکن میرے پاس قرآن کریم نہیں۔اگر آپ قرآن کریم کا ایک نسخہ مجھے تحفہ دے دیں تو میں بھی قرآن کریم پڑھ لیا کروں۔وہ لکھ پتی تھا، اس کا ہزاروں روپیہ گھوڑوں اور کتوں پر خرچ ہو جاتا تھا لیکن دوسرے کو قرآن کریم پڑھتے دیکھ کر اس کا دل ترستا تھا۔قرآن کریم خرید نہیں سکتا تھا۔اسی طرح اگر ناظر تعلیم و تربیت دس گز قنات کا انتظام نہیں کر سکتے تھے تو ہم سے ہی بطور تحفہ مانگ لیتے۔دوسری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ غریب ہونا الگ چیز ہے اور صفائی الگ چیز ہے۔ہم غریب ہیں ، کمزور ہیں اس میں شبہ ہی کیا ہے۔بڑی چیز کی ہم میں طاقت نہیں اور چھوٹی چیز پر دوسرے لوگ ہنستے ہیں لیکن بہر حال ہم نے اپنی قدر کو پہچاننا ہے اور اپنی ہستی کے مطابق کام کرنا ہے لیکن جو چیز ہماری ہستی کے مطابق ہے اُس کو بگاڑ کر کرنے میں کوئی لطف نہیں۔میں ایک دن نماز کے لیے (میں نے ایک دن اس لیے کہا ہے کہ میں اُن دنوں لاہور رہا کرتا تھا اور کبھی کبھی ربوہ آجاتا تھا تو جب میں رکوع کرتا تھا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں کسی روڑی پر جھک رہا ہوں اور جب سجدہ میں جاتا تھا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا کسی گندی جگہ پر سجدہ کر رہا ہوں۔میں نے ناظر صاحب امور عامہ سے کہا کہ ناک میرا بھی ہے اور آپ کا بھی ہے۔مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مسجد کے اردگر دا تنا پاخانہ پھرتے ہیں کہ اس کی بُو سے اب مسجد بھی پاخانہ ہی بن کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا میں بھی محسوس کرتا ہے ہوں اور لوگوں سے کہتا رہتا ہوں کہ یہاں پاخانہ نہ پھرو۔میں نے کہا ناظر کا کام کرنا ہوتا ہے کہنا نہیں ہوتا۔اس پر ناظر صاحب امور عامہ نے ایک دفعہ صفائی کرا دی اور میں نے دیکھا کہ کچھ دنوں تک آرام رہا۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ پھر وہی گندگی ہے۔میں خود تو نہیں دیکھتا کیونکہ میں صرف مسجد میں آتا ہوں لیکن میرا ناک کہتا ہے کہ یہاں گندگی ہے۔گندگی کا احساس اسلام نے خود کرایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کے متعلق فرمایا ہے کہ ان میں تھو کو نہیں ، ان میں بلغم نہ پھینکو، کوئی