خطبات محمود (جلد 30) — Page 395
$1949 395 خطبات محمود مانگا تھا۔ابھی پہلا ہی سال گزرا ہے آپ مزید روپیہ کیسے مانگ رہے ہیں؟ گو یا پانچ ہزار افراد میں۔جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا تھا صرف پانچ آدمیوں کا ذہن اس طرف گیا کہ آپ نے ستائیں ہزار روپیہ تین سال کے لیے مانگا تھا اور ہم نے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ دیا ہے۔اب آپ دوبارہ کیسے مانگ رہے ہیں؟ یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ یہ بات صرف پانچ آدمیوں کے ذہن میں آئی باقی چار ہزار نو سو پچانوے آدمیوں نے بھی میرا خطبہ پڑھا تھایا نہیں ؟ ان کے کان میں بھی میرے ستائیس ہزار روپیہ والے مطالبہ کے الفاظ پڑے تھے یا نہیں؟ یعنی یہ نتیجہ نکلا تھا کہ یہ رقم تین سال کے لیے مانگی گئی تھی۔ان چار ہزار کوسو پچانوے آدمیوں کی ضروریات بھی ویسی ہی تھیں جیسے ان پانچ آدمیوں کی۔جنہوں نے یہ کہا کہ آپ نے یہ رقم تین سال کے لیے مانگی تھی۔ان کے بھی بیوی بچے تھے، ان کے لیے بھی سامانِ معیشت جمع کرنے میں مشکلات تھیں۔لیکن میرے ستائیس ہزار روپیہ والے مطالبہ کے الفاظ یاد دلاتے ہیں صرف پانچ آدمی ، باقی چار ہزار نو سو پچانوے آدمی یہ الفاظ اپنی زبانوں سے نہیں نکالتے کہ آپ نے تین سال کے لیے یہ رقم مانگی تھی۔وہ بغیر کسی اعتراض کے بغیر کسی احتجاج کے اور بغیر کسی یاد دہانی کے چندہ لکھواتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ لکھواتے ہیں اور دوسرے سال ایک لاکھ بیس ہزار کے وعدے وصول ہوتے ہیں۔پھر یہ تحریک جاری رہی اور بڑھتی رہی۔یہاں تک کہ دسویں سال جماعت کا تین لاکھ روپیہ کا وعدہ تھا۔پھر میں نے کہا دس سال نہیں میں اس تحریک کو انیس سال تک چلانا چاہتا ہوں اور نوجوان اور اُن احمدیوں کے لیے جو اس تحریک کے بعد سلسلہ احمد یہ میں داخل ہوئے ہیں نئی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اُس وقت کہا کہ پچھلی تحریک میں حصہ لینے والوں میں سے جو چاہیں اپنے نویں سال کے وعدہ کے برابر دے سکتے ہیں۔پھر اگلے سال وہ پنے آٹھویں سال کے وعدہ کے برابر دیں۔اسی طرح وہ آئندہ اپنے وعدوں میں کمی کرتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ انیسویں سال ان کا وعدہ پہلے سال کے وعدہ کے برابر ہو جائے۔لیکن ہوا یہ کہ بہت کم لوگوں نے اس رخصت سے فائدہ اُٹھایا اور گیارھویں سال بھی باوجود میری اس رعایت کے اڑھائی لاکھ روپیہ وصول ہوا اور اب قریباً تین لاکھ کے وعدے آتے ہیں۔گویا بجائے پیچھے ہٹنے کے جماعت آگے کی طرف بڑھی ہے۔یہ تحریک اسی طرح چلتی گئی یہاں تک کہ ہمیں قادیان سے نکلنا پڑا اور مشرقی پنجاب اور ہندوستان کے بعض اور علاقوں کے لوگ اپنے مرکزوں سے ہل گئے اور ان کے