خطبات محمود (جلد 30) — Page 394
$1949 394 خطبات محمود۔مبلغ کے ایک طرف کے کرایہ کے لیے جتنے اخراجات کی ضرورت تھی اتنی رقم کے لیے جماعت میں تحریک کرنا عقل سے باہر نہیں تو اور کیا ہے۔اس سے صاف پتا لگتا ہے کہ اُس وقت ہماری بے بسی اور بے کسی کی کیا حالت تھی۔اُس وقت میں یہ محسوس کرتا تھا کہ ہماری جماعت اتنی کمزور اور اتنی غریب ہے کہ ان سے نو ہزار روپیہ سے زائد رقم مانگنی ناممکن بات ہے اور میں نے اُس وقت یہ سمجھا تھا کہ اس وقت جوش کی حالت میں ہم جماعت سے اتنا روپیہ لے لیں تو لے لیں ور نہ ہوسکتا ہے کہ اگلے سال جماعت میں اتنا جوش نہ ہو کہ وہ نو ہزار روپیہ کی رقم دے سکے اس لیے میں نے تین سال کے لیے ٹوٹو ہزار روپیہ کے حساب سے ستائیس ہزار روپیہ غالبا اکٹھا مانگ لیا۔پس میری وہ تحریک بتاتی ہے کہ کم از کم میں اُس وقت یہ سمجھتا تھا کہ جماعت کی حالت کو ہزار روپیہ دینے کی نہیں۔میری یہ تحریک بتاتی ہے کہ میں اُس وقت یہ سمجھتا تھا کہ ہم نے اگر انتہائی زور لگا کر روپیہ جمع کر لیا تو صرف تو ہزار روپیہ سالا نہ جمع کر سکتے ہیں۔میری یہ تحریک بتاتی ہے کہ میں اُس وقت یہ سمجھتا تھا کہ یہ و ہزار روپے بھی جمع ہے کرنا وقتی جوش کے مطابق ممکن ہیں ورنہ بالکل ممکن ہے کہ جوش ٹھنڈا ہو جائے تو یہ بھی جمع نہ ہو سکیں۔اس لیے میں نے کہا کہ تین سال کی رقم اکٹھی لے لو اور ستائیس ہزار لے لو۔لیکن ہوا کیا ؟ ہوا یہ کہ جماعت نے جو وعدہ کیا وہ ایک لاکھ روپیہ کا تھا یعنی بجائے تو ہزار روپیہ کے جماعت کے وعدے ایک لاکھ روپے کے ہوئے لیکن وصولی ایک لاکھ دس ہزار روپیہ کی ہوئی۔لوگوں کے دلوں میں تو یہ خوف ہوتا ہے کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا بھی ہوگا یا نہیں۔لیکن ہم نے یہ نمونہ دیکھا کہ جماعت نے ایک لاکھ روپے کا وعدہ کیا اور وصولی ایک لاکھ دس ہزار روپیہ کی ہوئی۔گویا جس چیز کو جماعت سے تین سال کے لیے مانگا گیا تھا اس سے چار گنا زیادہ رقم پہلے ہی سال ہمارے پاس آگئی۔اور جب کام کرنے لگے تو یہ محسوس ہوا کہ تو ہزار روپیہ سالانہ کی رقم شاید سوتے ہوئے یا نیم بیہوشی کی حالت میں تجویز کی گئی تھی۔یہ رقم تو اُن اخراجات کا جو ہم نے کرنے ہیں ایک قلیل ترین حصہ کہلانے کی بھی مستحق نہیں۔تب میں نے دوسرے سال پھر تحریک کی اور جماعت سے کہا کہ میں ایک لاکھ دس ہزار روپیہ جو جمع کیا گیا تھا خرچ کر چکا ہوں۔اب اور روپیہ لاؤ۔اُس وقت شاید پانچ چھ آدمی تھے جنہوں نے کہا حضور ! ہمیں جہاں تک باد ہے آپ نے یہ روپیہ تین سال کے لیے مانگا تھا اور جو چندہ ہم نے دیا تھا وہ تین سال کے لیے دیا تھا۔لیکن باقی ساری کی ساری جماعت نے یہ لفظ بھی نہیں کہے کہ آپ نے تو یہ روپیہ تین سال کے لیے