خطبات محمود (جلد 30) — Page 357
* 1949 357 خطبات محمود لیکن اس کے بغیر ہمارے لیے کوئی چارہ نہیں۔اور وہ یہ ہے کہ یہاں بہت سے لڑکے ایسے ہیں جن کی کی عمر تیرہ تیرہ چودہ چودہ سال کی ہے۔ان کی تعلیم تھوڑی ہے۔قادیان سے آنے کے بعد پڑھائی کا انتظام نہ ہو سکا اس لیے گزشتہ دو سال ان کے آوارگی میں گزر گئے۔اگر وہ قادیان ہوتے تو شاید وہ تعلیم میں آگے نکل جاتے لیکن قادیان سے آنے کے بعد وہ تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے۔جولڑ کا قادیان میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اس کی تعلیم اب بھی دوسری تک ہے لیکن اس کی عمر چوتھی جماعت والی ہے۔جولڑ کا تیسری جماعت میں پڑھتا تھا اس کی تعلیم اب بھی تیسری جماعت تک ہے لیکن اس کی عمر پانچویں جماعت والی ہے۔اسی طرح جولڑ کا چوتھی جماعت میں تعلیم حاصل کرتا تھا اس کی تعلیم چوتھی ہے جماعت تک ہی ہے۔لیکن اس کی عمر چھٹی جماعت والی ہے۔چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے تو یہ انتظام کر دیا گیا تھا کہ وہ زنانہ سکول میں داخل ہو جائیں لیکن جو بڑے تھے وہ اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے اور مزید تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے۔انہیں استانیوں نے لڑکیوں میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی۔آگے کچھ فطرت کی ستم ظریفی دیکھو! فطرتی قانون کے ماتحت بعض لڑکوں کا قد بڑا ہو جاتا ہے اور بعض کا چھوٹا۔اس لیے بعض لڑکے جو زنانہ سکول میں داخل کر لیے گئے ہیں قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُن کی عمر 8 ، 9 سال کی سمجھ لی گئی حالانکہ ان کی عمر 12 ،13 سال کی تھی۔اور جو داخل نہیں کیے گئے ہی قد لمبا ہونے کی وجہ سے ان کی عمر 12 ،13 سال کی سمجھ لی گئی حالانکہ وہ آٹھ نو سال کے تھے۔گویا ایک لڑکا جس کا قد بڑا ہے عمر چھوٹی ہے اسے تو سکول میں داخل نہیں کیا گیا اور جس کا قد چھوٹا ہے لیکن عمر بڑی ہے اسے چھوٹی عمر کا سمجھ کر داخل کر لیا گیا ہے۔میر محمد اسحاق صاحب کے گھر میں ایک کشمیری لڑکا نوکر ہوا کرتا تھا۔اُس کا قد چھوٹا تھا، اس کی شکل سے بھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ابھی بارہ تیرہ سال کی عمر کا ہے لیکن وہ ہونا تھا اور ساتھ ہی بغیر داڑھی مونچھ کے۔یہ ایک طبعی نقص بھی تھا۔وہ چونکہ میر صاحب کے گھر میں دیر سے رہتا تھا گھر کا پالتو جی بچہ سمجھ کر اس سے دیر تک پردہ نہ کیا گیا۔میں نے جب اسے دیکھا تو سمجھا کہ اس کی عمر زیادہ ہے لیکن میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ پندرہ سولہ سال کا ہو گا اس لیے میں نے اپنی دونوں بیویوں سے (اُس وقت دو ہی بیویاں تھیں ) کہا کہ وہ اس سے پردہ کیا کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑکا میر صاحب کے گھر میں رہنے کی وجہ سے گھر میں آتا ہے اور میر صاحب کے گھر کے لوگوں اور حضرت اماں جان کے پاس